عراق: قیدیوں کے قافلے پر حملے میں 60 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تاجی قصبہ بغداد سے 20 کلومیٹر شمال میں واقع ہے

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بغداد کے شمال میں قیدیوں کی ہنگامی منتقلی کے دوران قافلے پر حملے میں 52 قیدی اور آٹھ فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملہ علی الصبح اس وقت شروع ہوا جب حملہ آوروں نے تاجی قصبے میں ایک حراستی مرکز پر مارٹر گولوں کی مدد سے حملہ کیا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس میں حکومت مخالف جنگجوؤں کو قید رکھا گیا تھا۔

قیدیوں کے فرار کے خدشے کے پیشِ نظر حکام نے فوری طور پر انھیں بغداد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن قیدیوں کا قافلہ راستے ہی میں تھا کہ سڑک کنارے نصب بم پھٹے اور مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ شروع کر دی۔

تاجی قصبہ بغداد سے 20 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔

یہ اطلاعات متعدد حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر دی ہیں کیونکہ سرکاری سطح پر اس حملے کے بارے میں ابھی تک کوئی معلومات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

عراقی جیلوں میں قیدی

حال ہی میں انسانی حقوق کی سرکردہ تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز اور حکومت کے اتحادی جنگجوؤں نے نو جون سے اب تک کم از کم 255 قیدیوں کو قتل کر دیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں بظاہر دولت اسلامی عراق و شام (داعش یا آئی ایس آئی ایس) کے حملوں کا جواب نظر آتی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام کے تمام قیدی سنی مسلمان تھے جبکہ سکیورٹی فورسز اور جنگجوؤں کی اکثریت شیعہ ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ داعش جنگجوؤں کے بڑھتے قدم کے نتیجے میں بھاگتی ہوئی عراقی فوج نے زیادہ تر قیدیوں کا قتل کیا ہے۔

یہ ہلاکتیں عراق کے چھ قصبوں موصل، تلعفر، بعقوبہ، جمارخی، راوۃ اور ہلۃ میں سامنے آئی ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ماورائے عدالت قتل عام جنگی جرائم یا انسانیت کے خلاف جرائم کے شواہد ہیں اور بظاہر داعش کے ظلم و جبر کے بدلے کی کارروائی نظر آتے ہیں۔‘

گذشتہ مہینے داعش نے شمال مغرب کے بڑے علاقے پر قبضہ کرلیا تھا اور یہ گروہ اپنے قبضے والے علاقے میں جابرانہ حکومت کے لیے مشہور ہے۔

اسی بارے میں