غزہ: سکول پرگولہ باری میں 13 ہلاک، 200 زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 118000 ہزار افراد اقوام متحدہ کے سکولوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں: ویلیری آموس

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اقوام متحدہ کے زیر اہتمام چلنے والے ایک سکول پر اسرائیلی فوج کی گولہ باری کی وجہ سے کم از کم 13 افراد ہلاک اور دو سو زخمی ہوگئے ہیں۔

جب بیت الحین میں واقع سکول توپ کے گولوں کی زد میں آیا تو اس وقت وہاں سینکڑوں فلسطینی موجود تھے۔ غزہ میں اسرائیلی آپریشن شروع ہونے کے بعد ایک لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام عمارتوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

غزہ تاریخ کے تناظر میں

یہ چوتھا موقع ہے جب حماس کے خلاف جاری آپریشن کے دوران اقوام متحدہ کی کسی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے کی سربراہ ویلیری آموس کے مطابق 118000 ہزار افراد اقوام متحدہ کے سکولوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

ویلیری آموس نے غزہ کی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پر جنگ بندی اشد ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے غزہ میں بسنے والے لوگوں کے لیے 40 فیصد علاقہ ’نوگو‘ یا ممنوعہ علاقہ بن گیا ہے اور شہریوں کی خوراک کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

سرکاری اہلکاروں کے مطابق گذشتہ 16 دن کی اس اسرائیلی جارحیت میں اب تک 710 فلسطینی اور 30 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کی غزہ میں زمینی کارروائی اور فضائی حملے جاری ہیں اور دوسری طرف حماس بھی مسلسل اسرائیل پر راکٹ داغ رہی ہے۔

اسرائیل نے آٹھ جولائی کو حماس کے راکٹوں کو تباہ کرنے کے لیے غزہ پر فضائی حملے شروع کیے تھے جس کے بعد سے ان حملوں میں بڑی تعداد میں عورتوں اور بچوں سمیت شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

ویلیری آموس نے جمعرات کو اپنی تقریر میں کہا کہ 118000 ہزار افراد اقوام متحدہ کے سکولوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں جب کہ بہت سے افراد کو خوراک کی قلت اور پانی کی کمی کا بھی سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر اوچا نے کہا ہے کہ اسرائیل نے تین کلومیٹر کے علاقے کو (جو غزہ کے کل رقبے کا 44 فیصد بنتا ہے) فلسطینیوں کے لیے ممنوعہ علاقہ قرار دے دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی ادارے کی سربراہ نے کہا کہ اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق سے کوئی انکار نہیں کر رہا لیکن علاقے میں موجود شہریوں کے پر اس کے شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

دریں اثنا امریکہ کی فیڈرل ایوی ایشن اتھارٹی نے امریکی فضائی کمپنیوں پر تل ابیب کے لیے پروازوں پر پابندی اٹھا لی ہے۔ لیکن کئی مغربی فضائی کمپنیاں اب بھی تل ابیب کے لیے پروازوں شروع کرنے سے کترا رہی ہیں۔

تل ابیب کے لیے پروازوں پر اس وقت پابندی عائد کر دی گئی تھی جب حماس کا ایک راکٹ تل ابیب ایئرپورٹ کے قریب گرا تھا۔

جنگ بندی

Image caption خالد مشعل نے غزہ کی اقتصادی بندی کے خاتمے کے بغیر جنگ بندی کا امکان کو رد کر دیا ہے

شدت پسند گروپ حماس کے سربراہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ کی ناکہ بندی ختم ہونے تک جنگ بندی نہیں ہو سکتی۔

خالد مشعل نے کہا کہ حماس مستقل جنگ بندی کو اس وقت تک رد کرتا رہے گا جب تک اس کی شرائط تسلیم نہیں کر لی جاتیں۔

مزید براں خالد مشعل کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط میں غزہ کی مصر کے ساتھ رفح کے سرحدی راستے کو کھولنے اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے مطالبات بھی شامل ہیں۔

قطر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد مشعل نے کہا کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے کو تسلیم نہیں کریں گے جس میں غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کی شق شامل نہ ہو اور جو غزہ کے لوگوں کی قربانیوں کا احترام نہ کرے۔

خالد مشعل نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ غزہ کے لیے لوگوں کی امداد کے لیے دوائیاں، ایندھن اور دوسری امدادی اشیا فراہم کریں۔

دریں اثنا اسرائیل کے سائنس کے وزیر یاکو پیری نے ایک ویب سائٹ کو انٹرویو میں کہا کہ وہ جلد جنگ بندی اور اسرائیلی کی زمینی افواج کے غزہ سے نکلنے کی صورت پیدا ہوتے نہیں دیکھتے۔

انھوں نے کہا کہ وہ پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ حماس کی سرنگوں کا مسئلہ دو یا تین دن میں حل نہیں ہو سکتا ہے۔

اسرائیل نے غزہ پر سنہ 2006 میں حماس کی طرف سے ایک اسرائیلی فوجی کو یرغمال بنانے لینے کے بعد اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ سنہ 2007 میں ان پابندیوں کو اس وقت مزید سخت کر دیا گیا تھا جب حماس نے انتخابات میں ایک سال قبل کامیابی حاصل کرنے کے بعد فتح گروپ کو غزہ سے بے دخل کر دیا تھا۔

اس سال اپریل میں حماس اور فتح کے درمیان مفاہمت کی اسرائیل نے مذمت کی تھی۔

بدھ کے روز غزہ میں ایک مرتبہ پھر شدید لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئی اور عینی شاہدوں کے مطابق 5000 فلسطینیوں نے جنوبی غزہ میں واقع خوزا کو چھوڑ دیا ہے جہاں اسرائیلی فوج نے زمینی کارروائی شروع کی ہے۔

فلسطین کے طبی ذرائع کے مطابق جمعرات کو ہلاکتوں کی تعداد 710 تک پہنچ گئی ہے۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ بدھ کو حماس کی سرنگوں کو تباہ کرنے کی ایک کارروائی میں اس کے تین فوجی ہلاک ہو گئے۔

اسی بارے میں