غزہ میں جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں تیز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائیل اور حماس کی لڑائی میں 800 سے زائد فلسطینی اور 35 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

غزہ میں جاری لڑائی کے اٹھارھویں روز جہاں ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں وہیں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں بھی تیز تر ہو رہی ہیں۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری قاہرہ میں ہیں جہاں وہ مصر کے وزیرِ خارجہ اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان گی مون سے ملاقات کر رہے ہیں۔

غزہ تاریخ کے تناظر میں

غزہ میں گذشتہ رات اسرائیلی فوج نے فضائی حملے اور شیلنگ جاری رکھی جبکہ حماس کی جانب سے راکٹ حملوں کے بعد اسرائیل کے قصبوں میں الارم بجائے گئے۔

اب تک دو طرفہ لڑائی میں 800 سے زائد فلسطینی اور 35 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

غزہ مرنے والے زیادہ تر عام فلسطینی شہری تھے جبکہ اسرائیل کے ہلاک ہونے والوں میں 33 اسرائیلی فوجی اہلکار تھے۔

امریکہ اور مصر کے وزارئے خارجہ اقوامِ متحدہ کے سربراہ بان گی مون کے ہمراہ جمعے کی شام گئے ایک نیوز کانفرنس کرنے والے ہیں جس میں امید پیدا ہوئی ہے کہ کسی محدود معاہدے پر اتفاق ہو جائے گا۔

کسی معاہدے کے ہونے یا نہ ہونے دونوں ہی صورتوں میں امریکی وزیر خارجہ واپس چلے جائیں گے۔

جنگ بندی

حماس کے سربراہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ کی ناکہ بندی ختم ہونے تک مستقل جنگ بندی نہیں ہو سکتی۔

خالد مشعل نے کہا کہ حماس مستقل جنگ بندی کو اس وقت تک رد کرتا رہے گا جب تک اس کی شرائط تسلیم نہیں کر لی جاتیں۔

مزید براں خالد مشعل کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط میں غزہ کی مصر کے ساتھ رفاہ کے سرحدی راستے کو کھولنے اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے مطالبات بھی شامل ہیں۔

قطر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد مشعل نے کہا کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے کو تسلیم نہیں کریں گے جس میں غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کی شق شامل نہ ہو اور جو غزہ کے لوگوں کی قربانیوں کا احترام نہ کرے۔

خالد مشعل نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ غزہ کے لیے لوگوں کی امداد کے لیے دوائیاں، ایندھن اور دوسری امدادی اشیا فراہم کریں۔

ہلاکتیں اور مظاہرے

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غرب اردن میں غزہ پر بمباری کے خلاف مظاہرے میں اسرائیلی فورسز کی کارروائی میں دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ غزہ میں اسرائیلی بمباری میں ہلاکتوں کی تعداد 800 سے تجاوز کر گئی ہے۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غرب اردن کے شہر رام اللہ میں ہزاروں فلسطینیوں نے غزہ پر اسرائیل کے حملوں کے خلاف مظاہرے کیے۔

اطلاعات کے مطابق اس مظاہرے میں کم از کم دس ہزار افراد شریک تھے جنھوں نے رام اللہ سے مشرقی یروشلم کی جانب مارچ کیا۔

مشرقی یروشلم میں اسرائیلی فورسز نے ان کو روکنے کی کوشش کی جس کے باعث تصادم میں دو فلسطینی ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

جنگ کی وجہ سے غزہ میں بسنے والے لوگوں کے لیے 40 فیصد علاقہ ’نوگو ایریا‘ یا ممنوعہ علاقہ بن گیا ہے اور شہریوں کی خوراک کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

سکول پر بمباری

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ چوتھا موقع ہے جب حماس کے خلاف جاری آپریشن کے دوران اقوام متحدہ کی کسی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اقوام متحدہ کے زیر اہتمام چلنے والے ایک سکول پر اسرائیلی فوج کی گولہ باری کی وجہ سے کم از کم 13 افراد ہلاک اور دو سو زخمی ہوگئے ہیں۔

جب بیت الحین میں واقع سکول توپ کے گولوں کی زد میں آیا تو اس وقت وہاں سینکڑوں فلسطینی موجود تھے۔ غزہ میں اسرائیلی آپریشن شروع ہونے کے بعد ایک لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام عمارتوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

یہ چوتھا موقع ہے جب حماس کے خلاف جاری آپریشن کے دوران اقوام متحدہ کی کسی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے کی سربراہ ویلیری آموس کے مطابق 118000 ہزار افراد اقوام متحدہ کے سکولوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

118000ہزار افراد اقوام متحدہ کے سکولوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں جبکہ بہت سے افراد کو خوراک کی قلت اور پانی کی کمی کا بھی سامنا ہے۔

امریکہ کی فیڈرل ایوی ایشن اتھارٹی نے امریکی فضائی کمپنیوں پر تل ابیب کے لیے پروازوں پر پابندی اٹھا لی ہے۔ لیکن کئی مغربی فضائی کمپنیاں اب بھی تل ابیب کے لیے پروازوں شروع کرنے سے کترا رہی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف ’ہجوم کو منتشر کرنے کی تکنیک‘ استعمال کی ہے۔ اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز نے یہ کارروائی اس وقت کی جب مظاہرین نے پتھر پھینکے اور ٹائروں کو آگ لگا کر سڑک بند کر دی۔

غرب اردن میں مظاہروں کی کال فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت فتح موومنٹ نے دی تھی۔

فلسطینی رہنماؤں نے جمعتہ المبارک یعنی آج بھی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے کہا ہے کہ غرب اردن کا مظاہرہ انتفاضہ دوم کے بعد سے سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔

اسی بارے میں