فون ایپ سے رسہ گیری پر قابو

Image caption افریقہ کے غربا کے لیے یہ مویشی پیشہ، آمدنی، دولت، معاشرتی رتبہ اور ریٹائرمنٹ فنڈ سب کچھ ہی ہیں

’یہ ہمارا سب کچھ ہے۔ مال مویشیوں کی دیکھ بھال تو ایسے ہے کہ جب آپ پیدا ہوتے ہیں تو آپ اپنے والد کو یہ ہی کرتے دیکھتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے سب کچھ ہے۔‘

یہ الفاظ عبدالبا کےہیں جو سنیگال کے ایک کسان ہیں۔

وہ جیلور میں رہتے ہیں جو کہ وہی چھوٹا ساگاؤں ہے جہاں وہ 56 سال قبل پیدا ہوئے تھے۔ سنیگال کی 70 فیصد آبادی کی طرح وہ بھی مال مویشی پالتے ہیں۔

لیکن ان کے لیے یہ مویشیوں سے کچھ زیادہ ہیں۔ ان کے اور ان کے گھر والوں کے لیے یہ مویشی پیشہ، آمدنی، دولت، معاشرتی رتبہ اور ریٹائرمنٹ فنڈ سب کچھ ہی ہیں۔

انسان اور زمین کا رشتہ

افریقہ میں یہ کہانی ایک عام کہانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر یہ مویشی چوری ہو جائیں تو متاثرہ گھر والوں کے حالات اس قدر خراب ہو جاتے ہیں کہ خودکشی کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔

آخری بار جب چور آئے تھے تو عبدالبا کے سات جانور چوری ہوئے۔ وہ خوش قسمت تھے کیونکہ کہ اسی رات 120 جانور چوری ہوئے تھے۔

وہ کہتے ہیں ’ہمارے لیے اس کو ماننا بہت مشکل تھا مگر ہمیں اسے تسلیم کرنا پڑا۔ وہ اس وقت چوری ہوئے جب وہ پانی پی کی گھر کو لوٹ رہے تھے۔‘

’ہم کئی ماہ تک ان کی تلاش کرتے رہے۔ ہم نے علاقے کے تمام اضلاع اور دیہاتوں میں ڈھونڈا اور پھر بھی وہ نہیں ملے۔ آخرکار ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم نے انھیں کھو دیا ہے۔‘

سینگال کا کاشتکاری پر شدید انحصار ہے اور ملک میں تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کے مال مویشی دیہی علاقوں میں پھرتے ہیں اور چوری کا مسئلہ انفرادی طور پر خاندان سے بڑھ کر قومی معیشت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر کسان ہی نہیں حکومت بھی قابو پانا چاہتی ہے۔

کمپیوٹر کی ایک کلاس لے کر امادو ساؤ کو احساس ہوا کہ یہ مسئلہ ٹیکنالوجی کی مدد سے حل ہو سکتا ہے۔

چنانچہ وہ داکار گئے اور انھوں نے مائیکروسافٹ کے لوگوں سے بات کی۔ مائیکروسافٹ والوں کا خیال تھا کہ وہ شاید مدد کر پائیں گے۔

یہی وہ خیال تھا جس کے تحت ’دارال‘ ایپلیکیشن تشکیل دی گئی۔ دارال کا وولوف زبان میں مطلب ’مویشیوں کی مارکیٹ‘ کے ہیں۔

یہ ایپلیکیشن ’مائیکروسافٹ 4 افریکا‘، ایک غیر سرکاری تنظیم ’کوڈرز 4 افریقہ‘ اور نوجوان پروگرامرز کا اشتراک ہے۔

’آپ کو دیہی سینگال میں ہائی سپیڈ انٹرنیٹ کنیکشن تو نہیں ملیں گے مگر آپ کو موبائل فون بہت ملیں گے۔‘

کوڈرز 4 افریقہ کے لیگر جوبا کہتے ہیں کہ ’اگر آپ افریقہ میں دس لوگ لیں، ان میں سے 3 کے پاس کمپیوٹر ہوں گے مگر دس کے دس کے پاس موبائل فون ضرور ہوں گے۔‘

’ہمیں یقین ہے کہ معلومات کی فراہمی کا بہترین طریقہ موبائل فون ہے۔‘

Image caption کمپیوٹر کی ایک کلاس لے کر امادو ساؤ کو احساس ہوا کہ یہ مسئلہ ٹیکنالوجی کی مدد سے حل ہو سکتا ہے

یہ ایپلیکیشن سینگال کی وزارتِ لائف سٹاک کے لیے مال مویشیوں کی معلومات جمع کرتی ہے اور اس کا مقصد جانوروں کو چوری سے بچانا اور ان کی صحت کی نگرانی کرنا ہے۔

جانوروں کا اندراج ایک ویب بیسڈ ایپ کے ذریعے ہوتا ہے جس سے ان کے لیے ایک مخصوص رجسٹریشن نمبر بنایا جاتا ہے۔ اس میں آپ جانور کی تصویر بھی شامل کر سکتے ہیں۔

اگر کوئی جانور چوری ہوتا ہے تو اس کا مالک پولیس سے فوراً رابطہ کر سکتا ہے جو تمام علاقے میں تنبیہ کر سکتے ہیں اور اس کے لیے وہ بنیادی ایس ایم ایس کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔

مئی سے لے کر اب تک 2000 کسانوں نے اس سہولت کے لیے اندراج کروایا ہے۔ ان میں سے بہت سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اس سے ان کی زندگیاں بدل گئیں ہیں۔

کسانوں کے بیٹے اور ٹیکنالوجی کے طالب علم سدی سنوکو کہتے ہیں ’ایسے منصوبوں میں بہت پوٹینشل ہوتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ غریب ترین طبقے کو ٹیکنالوجی کی مدد دی جائے۔ اس کا بہت اثر پڑے گا۔‘

اسی بارے میں