آئی ڈی ایف کی حمایت میں ’سیکسی‘ تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Yafit Duer
Image caption فیس بوک پیج پر دنیا بپر سے خواتین آئی ڈی ایف کی یمایت کے لیے اپنی ’سیکسی‘ تصاویر بھیج رہی ہیں۔

غزہ میں کاروائیوں میں مصروف اسرائیلی افواج کی حمایت کے لیے فیس بک پر’سٹینڈنگ ود آئی ڈی ایف‘ پیج بنایاگیا ہے جسے اب تک 12 ہزار سے زیادہ ’لائکس‘ مل چکے ہیں۔ اس پیج کے بنانے والے نے اسرائیلی فوجیوں کے حمایت کے عورتوں سے درخواست کی کہ وہ اپنی تصاویر بھیجیں۔ اسرائیلی فوج کی حامی عورتوں کی ایک بڑی تعداد نے کم کپڑوں میں تصاویر بھیجی ہوئی ہیں جن میں انھوں نے ’آئی لو آئی ڈی ایف‘ اپنے جسم پر لکھا ہوا ہے۔

یہ مہم آئی ڈی ایف کی حمایت کا اظہار کرتی ہے جو فی الحال فلسطینوں کے خلاف غزہ میں جاری کارروائیوں میں مصروف ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق اب تک 1000 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عام فلسطینی شہریوں کی ہے۔

حالانکہ اس فیس بک پیج کو کافی حمایت ملی لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کو ’وار پورن‘ یا جنگ کو ایک فحش شکل دینے کے الزمات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

فیس بوک پیج بنانے والےگیوریل بیو کہتے ہیں کہ ’اسرائیل سے باہر آئی ڈی ایف کا امیج خراب ہے۔ ہم چاہتے تھے کہ ہم فوج کو ایک رومانی شکل دیں۔‘ انھوں نے مذید کہا کہ ’تاریخِ پر نظر ڈالیں تو دکھائی دیتا ہے کہ فوجی جنگ سے پہلے خواتین کی تصاویر دیکھتے تھے اور اس پیج کا مقصد بھی کچھ ایسا ہی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Yafit Duer
Image caption یافت دوئر جیسی اکثر خواتین جسم پر’آئ لاو آئ ڈی ایف‘ لکھے ہوئے اپنی تصاویر بھیج رہی ہیں۔

گیوریل بیو کے مطابق انھیں دنیا بھر سے ہزاروں عورتوں نے تصویریں بھیجیں اور بطور ان کے ان کا فیس بک پیج اتنا مقبول ہوگیا تھا کہ انھیں اپنے دوستوں سے مدد لینی پڑی۔ ان کا مذید یہ کہنا ہے کہ آئی ڈی ایف کے فوجیوں نے بھی انھیں شکریے کی ای میز بھیجی ہیں۔

تل ابیب کے قریب رہنے والی ایک خاتون، یافت دوئر نے بھی اپنی تصویر فیس بوک کے اس پیج کو بھیجی۔ ان کے مطابق ’میں فوجیوں کی ایک مشکل وقت میں مدد کرنا چاہتی تھی، اور اسرائیل کا ایک مختلف پہلو دنیا کو ظاہر کرنا چاہتی تھی۔‘ تاہم کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ اس سے اسرائیل کی مذید بدنامی ہو سکتی ہی لیکن یافت دوئر کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگوں نے اس کا استقبال کیا ہے ۔‘

سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے اس مہم کے حوالے سے نفرت کا اظہار کیا ہے اور فیس بک پیج ہٹانے کو کہا ہے۔ ایک عورت نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’یہ فیس بک پاگل پن ہے! یہ ایک قابل نفرت بات ہے کہ اسرئیلی خواتین اپنی عریاں تصاویر آئی ڈی ایف کو بھیجیں۔‘ اور لوگوں نے ان تصاویر کو’جنگ پوناگرافی‘ اور ’محب الوطن کے نام پر فحش پن‘ کہا ہے۔

اسی بارے میں