بولیویا: نوآبادیاتی عہد کے کان کنوں کی اجتماعی قبر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیرو ریکو پہاڑ پر بے دریغ کان کنی کے سبب پوٹوسی کے علاقے میں تاریخی وراثت کو خطرہ لاحق ہے

بولیویا کے شہر پوٹوسی میں ایک قبر ملی ہے جس میں کم از کم 400 افراد کی لاشیں تھیں جن کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ نوآبادیاتی عہد کے کان کن ہیں۔

یہ قبر ان مزدوروں نے دریافت کی جو ایک نئی عمارت کے لیے زمین کھود رہے تھے۔

سپین کے باشندوں نے جب پہلی بار سنہ 1545 میں وہاں چاندی کی دریافت کی تھی اس کے بعد سے پوٹوسی کی کان دنیا کی سب سے بڑی کان بن گئی تھی۔

اس زمانے میں ان کانوں میں افریقی اور علاقائی غلام کان کن کے طور پر کام کیا کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس دور میں کان کنی کی اس دوڑ میں کم از کم 80 لاکھ افراد مارے گئے ہوں گے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پوٹوسی کی کانیں 19ویں صدی میں نوآبادیاتی حکومت کے خاتمے تک سپین کے لیے دولت کا بہت بڑا ذریعہ تھیں۔

پوٹوسی کی ٹومس فریئس یونیورسٹی کے میوزیم میں تحقیق کرنے والے سرجیو فیڈل نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم ایک عام سی 1.8 میٹر لمبی قبر کی بات کر رہے ہیں جس میں انسانی باقیات چار مربع میٹر میں پھیلے ہوئے ہیں۔‘

Image caption پوٹوسی میں سپین کے باشندوں نے پہلی بار چاندی کی دریافت کی تھی

یونیورسٹی نے اس وقت اس معاملے میں دخل دیا جب انھیں پتہ چلا کہ تعمیر کرنے والے مزدور ہڈیوں کو ایک جگہ اکٹھا کر رہے ہیں اور کام جاری ہے۔

ابھی گذشتہ مہینے ہی اقوام متحدہ کے ثقافتی شعبے یونیسکو نے پوٹوسی کو ایسے عالمی وراثت کے مقام کی فہرست میں شامل کیا تھا جنھیں خطرہ لاحق ہے۔

یونیسکو کا کہنا ہے کہ تاریخی وراثت کی اہمیت کے حامل اس علاقے ’کو سیرو ریکو پہاڑوں میں بے روک ٹوک اور بے دریغ کان کنی کی وجہ سے ضائع ہوجانے کا خطرہ لاحق ہے۔‘

اسی بارے میں