حماس کا چوبیس گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption غزہ میں اسرائیلی کارروائی میں 1000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں

فلسطینی گروپ حماس نے اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے بعد چوبیس گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق دن دو بجے شروع ہو گی۔

البتہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حماس پہلے ہی جنگ بندی کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔

اس سے قبل اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی جنگ بندی کے دوران حماس کی جانب سے راکٹ حملوں کے باعث وہ غزہ پر دوبارہ کارروائی شروع کر رہا ہے۔

تاہم حماس نے اس جنگ بندی کو منظور نہیں کیا تھا۔حماس کا کہنا تھا کہ وہ جنگ بندی صرف اسی صورت میں قبول کرے جب اسرائیلی فوجیں غزہ سے نکل جائیں گی اور بے گھر ہونے والے افراد کو لوٹنے کی اجازت دی جائے گی۔

اسرائیل کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی درخواست پر مزید 24 گھنٹوں کے لیے کابینہ نے جنگ بندی کی تجویز منظور کر لی ہے تاہم جنگ بندی کے دوران فوج کو کارروائی کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے اگر اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنگ بندی کی مدت میں مزید چار گھنٹے کی توسیع پر اتفاق کیا تھا جو سنیچر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں انسانی ہمدری کی بنیاد پر 12 گھنٹوں کی جنگ بندی میں اضافہ تھا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں موجود سرنگوں کے خاتمے کا آپریشن اس دوران جاری رکھے گا۔

حماس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سابقہ وقفوں کے دوران مزید حملوں کی تیار کرتا رہا ہے اور سینیچر کو اس نے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کیں۔

غزہ میں وزارتِ صحت کے مطابق 19 روز سے جاری اسرائیلی کارروائی کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 1033 سے تجاوز کر گئی ہے جس میں مزید اضافہ جنگ بندی کے دوران ملبے تلے دبی مزید لاشوں کے نکالنے کے عمل کے بعد ہو رہا ہے۔

وزارت کے ایک ترجمان نے بتایا کہ سنیچر کو ملبے تلے سے 150 مزید لاشیں نکالی گئیں۔

اب تک ہلاک ہونے والے 1033 سے زیادہ فلسطینیوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں دوسری جانب سنیچر کو 2 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اب تک اس کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی تعداد 42 تک پہنچ گئی ہے جن میں اکثریت فوجیوں کی ہے۔

ان 42 افراد میں سے دو عام اسرائیلی شہری جبکہ ایک تھائی مزدور شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption غزہ مرنے والے زیادہ تر عام فلسطینی شہری تھے جبکہ اسرائیل کے ہلاک ہونے والوں میں 33 اسرائیلی فوجی اہلکار تھے

اسی بارے میں