جنگجو جنگ بندی کے لیے تیار نہیں: حماس رہنما

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption رات کو بیوریجی مہاجر کیمپ پر اسرائیلی حملوں میں اطلاعات کے مطابق 13 فلسطینی ہلاک ہوئے

حماس کے ایک رہنما نے اس خیال کو مسترد کیا ہے کہ فلسطینی جنگجو غزہ میں قیامِ امن کے لیے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے لیے راضی ہیں۔

حماس کے عسکری ونگ کے رہنما محمد دائف کا کہنا ہے کہ ان کے فوج ’موت کے لیے بے تاب‘ ہیں۔

اس کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ پر انتہائی بمباری کا ایک اور دن گزرا ہے جس میں علاقے کا واحد پاور پلانٹ بھی تباہ ہو گیا ہے۔

غزہ میں حکام نے بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کی طرف سے طویل مدتی کارروائی کی دھمکی کے بعد غزہ پر پیر اور منگل کی درمیانی شب زمین، سمندر اور فضا سے شدید قسم کی بمباری کی گئی ہے۔

اس دوران اسرائیل نے غزہ پر 60 فضائی حملے کیے جس میں حماس کے ٹی وی چینل، ریڈیو اور دیگر عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

فلسطینی محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 100 فلسطینی ہلاک ہوئے۔

سکیورٹی کونسل کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

فلسطینی حکام کے مطابق آٹھ جولائی سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 1200 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی بتائی جاتی ہے۔

اسرائیل کے مطابق حالیہ کشیدگی میں ان کے 53 فوجی اور تین عام شہری مارے گئے ہیں جن میں ایک تھائی مزدور بھی تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پیر اور منگل کی درمیانی شب لڑائی جاری رہی جس میں اسرائیل اور حماس دونوں نے ایک دوسرے پر حملے کیے۔ رات کو بیوریجی مہاجر کیمپ پر اسرائیلی حملوں میں اطلاعات کے مطابق 13 فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں سے چھ کا تعلق ایک ہی گھرانہ سے تھا۔

حماس کے رہنما اور سباق وزیرِ اعظم اسماعیل ہنیہ کے بیٹے غزہ کے حکام نے کہا ہے کہ منگل کی صبح اسرائیل نے اسمعاعیل ہانیہ کے گھر پر بمباری کی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حملے کے وقت اسماعیل ہنیہ کا گھر کا خالی تھا۔

اطلاعات کے مطابق حماس نے کہا ہے کہ ان کے الاقصیٰ ٹی وی چینل کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption فلسطین پر اتنی شدید بمباری گزشتہ دو ہفتوں میں نہیں ہوئی ہے

فلسطینی سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ رات کو حملوں میں 55 مکان تباہ ہوئے جس کے ملبے تلے لوگ دب گئے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق اسرائیل طیاروں سے پمفلٹ گرا رہا ہے جس میں شمالی غزہ کے رہائشیوں کو گھر بار چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین کی مدد کر سکے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے یہ اقدام عام شہریوں کی حفاظت کی خاطر اٹھایا ہے۔

اس سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل کو غزہ میں ایک طویل مدتی کارروائی کے لیے تیارہ ہونا پڑے گا۔

انھوں نے کہا تھا کہ اسرائیل اپنے بیان کردہ مقصد یعنی غزہ سے اسرائیل جانے والی سرنگوں کو تباہ کرنے تک کارروائی جاری رکھے گا۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا تھا کہ’ہم اپنے شہریوں، فوجیوں اور بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کی مشن کی تکمیل تک ذمے داری سے جارحانہ اقدامات جاری رکھیں گے۔‘

دریں اثنا اسرائیلی دفاعی فورسز نے کہا ہے کہ غزہ سے مرکزی اسرائیل میں تین راکٹ داغے گئے جن میں سے ایک کو مار گرایا گیا جبکہ دو کھلے میدان میں گر گئے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عید الفطر کے موقع پر جنگ بندی کی اپیل کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ میں تھوڑی دیر کی خاموشی کے دوران فلسطینی عوام نے پیر کو سوگوار فضا میں عید منائی۔

اسی بارے میں