اردگان جیوئش گروپ کا ایوارڈ واپس کر رہے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رجب طیب اردگان کے بارے میں یہودی گروپ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف انتہائی سخت بیانات دیتے ہیں

غزہ کے بارے میں ایک بیان پر ’امریکن جوئش گروپ‘ کی طرف سے ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردگان سے سنہ 2004 میں دیئے گئے ایوارڈ کو واپس کرنے کے مطالبے کے بعد ترک وزیر اعظم یہ ایوارڈ واپس کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبررساں اداروں ایسوسی ایٹڈ پریس اور رویٹرز نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ میں ترکی کے سفیر سردار کلک نے امریکن جوئش گروپ کے صدر جیک روسن کو وزیر اعظم رجب طیب اردگان کی طرف سے ایک خط لکھا ہے۔

ترک سفیر نے کہا ہے کہ وزیراعظم اردگان غزہ میں اسرائیل اقدامات کے بعد اور امریکن جوئش گروپ کی طرف سے غزہ کے بارے میں اپنائے جانے والے موقف کے بعد خوشی سے یہ ایوارڈ واپس کریں گے۔

ستائیس جولائی کو لکھا جانے والا یہ خط منگل کو عام کیا گیا۔

امریکن جوئش گروپ کے صدر روزن کی طرف گزشتہ ہفتے لکھے جانے والے ایک کھلے خط میں کہا گیا کہ ترکی کے وزیر اعظم دنیا میں اسرائیل کے خلاف بیانات دینے والے سب سے تلخ رہنما ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ترکی کے وزیر اعظم اردگان کو سنہ 2004 میں مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام اور ترکی میں یہودی آبادی کو تحفظ فراہم کرنے کے اعتراف میں ’پروفائل آف کرج ‘ یا جرت کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔

اردگان نے جو آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات میں دوبارہ منتخب ہونے کے لیے مہم چلا رہے ہیں غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف سخت بیانات دیے ہیں اور کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔

ترک سفیر نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ، ہر قسم کی انتہا پسند کے خاتمے، مسئلہ فلسطین کے پرامن طریقے سے دو ریاستی حل اور ترکی میں یہودی آبادی کی سلامتی اور تحفظ کے لیے اردگان کے ارادہ ہمشیہ کی طرف مضبوط اور مصمم ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ترک وزیر اعظم سے یہ توقع نہیں کی جانی چاہیے کہ وہ قبضہ، اقتصادی ناکہ بندی اور تباہی اور بربادی کی اسرائیلی حکومت کی پالیسوں سے جو اس نے غزہ اور غرب اردن میں فلسطینیوں کے خلاف اپنائی ہوئی ہیں ان سے صرف نظر کریں گے۔

انھوں نے کہا غزہ میں ہسپتالوں اور سکولوں پر اسرائیلی فوجی کی بہیمانہ بمباری بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ بنیادی انسانی اقدار کے بھی منافی ہے۔

اسی بارے میں