ایوانِ نمائندگان میں براک اوباما پر مقدمے کی قرارداد منظور

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کانگریس کے رپبلکن ارکان کو شکایت ہے کہ صدر اوباما نے متعدد مواقع پر کانگریس کو نظرانداز کرتے ہوئے انتظامی احکامات جاری کر کے اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا ہے

امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت امریکی صدر اوباما پر اختیارات سے مبینہ تجاوز کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

یہ قرارداد 201 کے مقابلے پر 225 ووٹوں کی اکثریت سے منظور ہوئی اور اس کے تحت ایوان کے وکلا مقدمہ چلانے کے لیے قانونی دستاویزات تیار کرنا شروع کر دیں گے۔

قرارداد کے حامیوں کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے صحت کے قانون کے ضمن میں انشورنس کی حتمی تاریخ میں تاخیر کر کے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

صدر اوباما نے اسے وقت کا ضیاع کہہ کر مسترد کر دیا: ’ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ ایک سیاسی شعبدہ ہے۔‘

ہم نے آپ جیسے محنت کش خاندانوں کی مدد کے لیے 40 سے زائد اقدامات کیے ہیں۔ جب کانگریس کچھ نہیں کرتی تو پھر ہم کام کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ ایک سیاسی شعبدہ ہے۔۔۔ جب کانگریس کچھ نہیں کرتی تو پھر ہم کام کرتے ہیں: صدر اوباما

کانگریس کے رپبلکن ارکان کو شکایت ہے کہ صدر اوباما نے متعدد مواقع پر کانگریس کو نظرانداز کرتے ہوئے انتظامی احکامات جاری کر کے اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

مثال کے طور پر انھیں اعتراض ہے کہ صدر اوباما نے بعض غیرقانونی کم عمر تارکینِ وطن کی ملک بدری کے قانون میں نرمی کر کے اور ایک امریکی قیدی کی رہائی کے عوض قیدیوں کا تبادلہ کر کے یک طرفہ فیصلے کیے ہیں۔

اس قرارداد کو ٹیکسس کے رکنِ کانگریس پیٹ سیشنز نے پیش کیا تھا اور اسے سپیکر جان بینر کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ اس میں خاص طور پر صدر اوباما کے اس فیصلے کا ذکر کیا گیا ہے جس میں انھوں نے اپنے 2010 میں پیش کردہ صحت کے قانون کی ایک شق کے نفاذ کو دو بار ملتوی کیا جس کے تحت ایک خاص حد سے بڑے کاروباری اداروں کے لیے لازم تھا کہ وہ اپنے ملازمین کی صحت کا بیمہ کروائیں۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کی ایک تحقیق کے مطابق اپنے چھ سالہ دورِ اقتدار میں صدر اوباما نے 183 انتظامی احکامات جاری کیے ہیں، جب کہ ان کے پیش رو جارج بش نے اپنے آٹھ برسوں میں 291 اور رونلڈ ریگن نے 381 ایسے احکامات جاری کیے تھے۔

صدر اوباما کا موقف ہے کہ کانگریس، جس میں ان کی مخالف رپبلکن پارٹی کی اکثریت ہے، سینیٹ کی منظور کردہ اکثر قراردادوں پر بھی رائے شماری نہیں کرنے دیتی۔ ان قوانین میں امیگریشن اور ہم جنس پرستوں سے متعلق اصلاحات شامل ہیں۔

اسی بارے میں