شامی باغیوں کے ساتھ تصادم میں آٹھ لبنانی فوجی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سنیچر کو لبنانی فوج ارسل شرہ میں داخل ہوئی

لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ شامی باغیوں کے ساتھ جنگ میں آٹھ لبنانی فوجی مارے گئے ہیں۔

یہ تصادم سنیچر کی شام لبنانی فوجیوں کے اسلام پسند شامی گروہ النصرہ فرنٹ کے ایک مبینہ رکن کو حراست میں لینے کے بعد شروع ہوئی ہے۔ باغیوں نے اپنے رکن کی رہائی کے لیے سنیچر کو شام سے ملحق سرحدی شہر ارسل پر حملہ کر دیا۔

اتوار کو صبح سے ارسل میں جنگ جاری ہے جہاں سنیوں کی بھاری اکثریت ہے۔

واضح رہے کہ یہ علاقے شامی جنگجوؤں اور لبنانی افواج کے درمیان تصادم کے لیے جانے جاتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سنیچر سے جاری تصادم میں کم از کم دو لبنانی شہریوں کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔

سنیچر کو شامی جنگجوؤں نے تھوڑے وقت کے لیے شہر کے ایک پولیس سٹیشن پر قبضہ کر لیا تھا۔ واضح رہے کہ اس شہر میں ملک میں جاری تصادم کے نتیجے میں بہت سے شامی پناہ گزین رہتے ہیں۔

النصرہ فرنٹ کے ایک ترجمان نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ وہ اپنے ایک رہنما عماد جمع کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں جنھیں شہر کے نزدیک ایک چیک پوسٹ سے حراست میں لیا گیا تھا۔

النصرہ فرنٹ شامی القاعدہ سے منسلک ہے اور وہ دوسرے باغیوں کے ہمراہ صدر بشار الاسد کی شامی حکومت کے خلاف برسر پیکار ہے۔

دوسری جانب لبنان خود ہی جنگ کا شکار ہے اور 50 لاکھ کی آبادی والے اس ملک میں شام سے آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد بھی 10 لاکھ سے زیادہ ہے۔

اسی بارے میں