کرد جنگجوؤں کو عراقی فضائی تعاون کی پیشکش

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پیش مرگ نامی کردستان کی فوج سنی شدت پسندوں کے خلاف جوابی حملے کا منصوبہ بنا رہی ہے

عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے ملک کی فضائیہ کو کرد افواج کی فضائی امداد کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ کرد افواج ملک کے شمال میں سنی جنگجوؤں سے برسر پیکار ہیں۔

یہ حکم اس وقت صادر کیا گیا ہے جب گذشتہ دو دنوں کے دوران دولتِ اسلامیہ (جسے پہلے داعش کے نام سے جانا جاتا تھا) نے کردوں سے دو شہروں اور اس کے پاس موجود تیل کے کنووں پر قبضہ کر لیا۔

کرد فوج جسے ’پیش مرگ‘ کہا جاتا ہے، جوابی حملے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

سنی جنگجوؤں نے جون میں ہی عراقی حکومت سے شمالی عراق کے بڑے حصے کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔

اس کے بعد سے خودمختار کردستان کے علاقے اور بغداد کے درمیان تعلقات میں کشیدگی نظر آئي۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ نوری المالکی کی پیشکش سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلامی مملکت کی پیش رفت کے پیش نظر عراق اور کردوں کے درمیان کسی قسم کا اتحاد کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یزیدی قبیلے کے دسیوں ہزار کرد سنجار اور زمار پر اسلامی مملکت کے قبضے کے بعد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں

پیر کو ایک بیان میں عراقی افواج کے ترجمان قاسم عطا نے کہا: ’مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف نے فضائیہ اور آرمی کے فضائی یونٹ کے سربراہان کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ پیش مرگ افواج کو فضائی تعاون فراہم کریں۔‘

ابھی تک کرد رہنماؤں نے اس پر اپنے رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔

اس سے قبل ایک کرد اہلکار نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ پیش مرگ افواج بہت بکھر گئی تھی لیکن اب انھیں یکجا کیا جا رہا ہے تاکہ جوابی کارروائی کی جا سکے۔

انھوں نے کہا: ’علاقے کے لیے یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے اور جلد ہی کچھ نہ کچھ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔‘

شام کے کرد جنگجو گروپ پی وائی ڈی کا کہنا ہے کہ اس کے جنگجو پیر کو سرحد عبور کر کے عراق میں داخل ہو چکے ہیں۔ روئٹرز کے مطابق کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے ) نے تمام کردوں کو سنی جنگجوؤں کے خلاف لڑنے کے لیے کہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عراقی افواج کو کردستان کے فوجیوں کو فضائی تعاون فراہم کرنے کے لیے کہا گيا ہے

واضح رہے کہ پی کے کے ترکی کے کردوں کی خودمختاری کے لیے تین دہائیوں تک لڑتی رہی ہے اور اب ترکی حکومت کے ساتھ امن کی بحالی میں مصروف ہے۔

دریں اثنا اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عراقی اقلیت یزیدی برادری کے دسیوں ہزار افراد سنجاراور زمار شہروں پر سنیوں کے قبضے کے بعد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اور ان میں سے بہت سے لوگ ان شہروں کے پہاڑی علاقوں کی جانب بھاگ نکلے ہیں۔

عراق کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نکولائی ملادینوو نےبی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔

اسی بارے میں