براک اوباما کی عراق میں فضائی حملوں کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنی شدت پسند گروپ دولتِ اسلامیہ نے جون میں شمالی عراق میں اپنے حملے شروع کیے تھے اور عراق اور شام کا خاصا حصہ ان کے قبضے میں ہے

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ انھوں نے عراق میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کی اجازت دے دی ہے۔

امریکی صدر نے ان حملوں کی اجازت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شدت پسندوں کی جانب سے امریکی مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

تاہم انھوں نے واضح کیا کہ امریکی فوج کو واپس عراق نہیں بھیجا جائے گا۔

امریکہ اس سے پہلے ’ریاستِ اسلامیہ ‘ کے شدت پسندوں کے ہاتھوں خطرے سے دوچار افراد کے لیے فضائی امداد فراہم کر چکا ہے۔

اس سے پہلے عراق میں عیسائی اقلیت کے سب سے بڑے قصبے قراقوش کے اسلامی شدت پسندوں کے کنٹرول میں آنے کے بعد وہاں سے ہزاروں عسیائیوں نے ہنگامی نقل مکانی کی۔

امریکی اہلکار کے مطابق نے یہ امداد سنجار نامی علاقے کے قریب یزیدی اقلیتوں کو فراہم کی ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا: ’دنیا میں اگر کہیں بھی کوئی بحران ہوتا ہے تو امریکہ ہر بار اس میں مداخلت نہیں کر سکتا نہ اسے کرنا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا: ’ہم کسی بھی قتلِ عام کو روکنے کے لیے احتیاط اور ذمہ داری سے اقدامات کر سکتے ہیں۔‘

انھوں نے اعلان کیا کہ ’آج امریکہ مدد کے لیے آ رہا ہے۔‘

صدر اوباما کا کہنا ہے کہ اگر شدت پسند اربل شہر کی جانب قدم بڑھاتے ہیں تو یہ کارروائی کی جائے گی۔ اربل میں امریکی قونصل خانے اور فوجی مشیروں کا دفتر ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ نے یزیدی لوگوں کو مکمل طور پر نیست و نابود کرنے کا اعلان کیا ہے، جن میں سے بہت سے لوگ پہاڑوں کی طرف بھاگ گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب امریکی مداخلت کو مکمل طور درست ہے اور اس کو عراقی حکومت کی حمایت بھی چاہیے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکہ عراق میں استحکام پیدا کرنے کے لیے معتدل قوتوں کی حمایت کر سکتا ہے اور اسے ایسا کرنا بھی چاہیے۔

سنی شدت پسند گروپ دولتِ اسلامیہ نے جون میں شمالی عراق میں حملے شروع کیے تھے اور عراق اور شام کا خاصا حصہ ان کے قبضے میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قبضے والے علاقوں میں انھوں نے اسلامی ریاست قائم کر دی ہے۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دولتِ اسلامیہ کے سنی شدت پسندوں کے حملوں کی سخت تنقید کی تھی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ وہ ان حملوں سے بہت دکھی ہیں۔

کرد فوجی کئی ہفتوں سے قراقوش کے ارد گرد دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں سے جنگ کر رہے تھے لیکن بدھ کی رات کو بظاہر انھوں نے اپنے تمام ٹھکانوں کو چھوڑ دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شدت پسندوں کے حملوں کے بعد کئی اقلیتیوں کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے جس میں یزیدی اور عیسائی برادریاں شامل ہیں

اسی بارے میں