امریکہ کے عراق میں شدت پسندوں پر فضائی حملے

  • 10 اگست 2014
Image copyright AP
Image caption امریکی صدر کے مطابق عراق میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں

امریکہ کی فوج کے مطابق شمالی عراق میں ریاستِ اسلامیہ کے شدت پسندوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ عراقی شہریوں کو شدت پسندوں کے حملوں سے بچانے کے لیے یہ کارروائی کی گئی۔

امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے جنگی جہازوں اور مسلح ڈرون طیاروں کے حملوں میں شدت پسندوں کی بکتر بند گاڑی اور ایک ٹرک کو تباہ کر دیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان گاڑیوں سے اقلیتی یزیدی فرقے کے لوگوں پر فائرنگ کی جا رہی تھی۔

عراق میں امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے فضائی حملوں کی منظوری کے بعد تیسری بار شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

سنگجار کی جانب شدت پسندوں کی پیش قدمی کے بعد ہزاروں کی تعداد میں عام شہریوں نے پہاڑوں پر پناہ لے رکھی ہے۔

’جہادی جنگجوؤں کو اسلامی ریاست نہیں بنانے دیں گے‘

Image copyright Getty
Image caption اوباما نے وعدہ کیا کہ امریکی افواج اب کسی بھی قسم کی جنگ میں گھسیٹی نہیں جائے گی

اس سے پہلے امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ عراق اور شام میں موجود جہادی جنگجوؤں کو ’اسلامی ریاست‘ نہیں بنانے دیں گے۔

امریکہ نے عراق میں ریاست اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کی کردستان کی جانب پیش قدمی کو روکنے کے لیے فضائی حملوں میں تیزی کر دی ہے۔

صدر اوباما کا کہنا ہے کہ وہ مزید فضائی حملے کرسکتے ہیں۔ تاہم انھوں نے کسی بھی قسم کے زمینی آپریشن کو رد کردیا۔

امریکی اخبار دی نیو یارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ وہ عراق اور شام میں موجود جہادی جنگجوؤں کو اس وقت تک ’اسلامی ریاست‘ قائم نہیں کرنے دیں گے جب تک ان کے پاس مقامی طور پر ساتھی موجود نہ ہوں۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ وقتی طور پر داعش کے جنگجوؤں پر فضائی حملے کر کے انھیں علاقے سے نکال سکتے ہیں۔ تاہم حملے رکنے کے بعد جنگجو دوبارہ اس علاقے میں واپس آجائیں گے۔

امریکی صدر کے مطابق عراق میں ان کے فضائی حملے اور امدادی کام بہت اہم ہے تاہم ان کا اثر محدود ہے۔

انھوں نے وعدہ کیا کہ امریکی افواج اب کسی بھی قسم کی جنگ میں گھسیٹی نہیں جائے گی۔

امریکی صدر کے مطابق عراق کو جہادی بغاوت پر قابو پانے اور ملک کو مستحکم کرنے کی کوششوں میں امریکی مدد میں وقت درکار ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ یہ ایک طویل مدتی منصوبہ ہو گا جس میں فوج کو رسد کی فراہمی اور سنی آبادی میں حمایت حاصل شامل ہے۔

Image copyright Reuters
Image caption شدت پسندوں نے گذشتہ کچھ ماہ کے دوران تیزی سے عراقی علاقوں میں پیش قدمی کی ہے

امریکہ نے سنیچر کی صبح عراقی جہادی جنگجوگروہوں سے چھپنے والی مقامی آبادی کو کھانے پینے کی اشیا ہوا کے ذریعے پہنچائی جبکہ برطانیہ سے بھی ایک کارگو جہاز امدادی سامان لیے آج صبح عراق روانہ ہوگیا ۔

امریکہ نے امدادی سامان سنگجار کے پہاڑوں میں جہازوں کے ذریعے پہنچایا جہاں پر 50,000 کے قریب یزیدی اقلیتی جماعت کے لوگ موجود ہیں جو کے گذشتہ ہفتے داعش کے جنگجوؤں کی علاقے میں پیش قدمی کے بعد وہاں جا چھپے تھے ۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ کے دوران داعش کے جنگجوؤں نے عراق اور شام میں بہت بڑے علاقوں پر قبضہ جما لیا ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے عراق میں عیسائی، کرد اور یزیدی اقلیتی جماعتوں پر بھی ظلم کیا ہے جس کی وجہ سے وہاں سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہنگامی طور پر نقل مکانی کر گئے ہیں۔

اسی بارے میں