دس چیزیں جن سے ہم لاعلم تھے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کچھوے کی رفتار کو سست رفتاری کا مترادف کہا جاتا ہے

1۔ کچھوے بہت تیز دوڑیں تو 1.6 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے دوڑ سکتے ہیں۔

مزید معلومات کے لیے پڑھیں

2۔ نیندرتھل یا قدیم انسان کبوتر کے کباب کھاتے تھے۔

مزید معلومات کے لیے پڑھیں ( دا گارڈین)

3۔ چیونٹی کے چھتوں کی اپنی خاصیت ہوتی ہے۔

مزید معلومات کے لیے پڑھیں

4۔ بھارت میں طویل ترین مدت تک غائب رہنے کا ریکارڈ حیاتیات کی ایک استاد کا ہے جو چھٹی کے بعد 23 سال سے غیر حاضر ہیں۔

مزید معلومات کے لئے پڑھیں

5۔ امریکی ریاست اوکلاہوما میں اوسطاً گانجے اور چرس کے اڈے پر خرچ ہونے والی رقم تقریباً تین بوتل بڈ لائٹ بیئر کی قیمت کے برابر آتی ہے۔

مزید معلومات کے لیے پڑھیں (واشنگٹن پوسٹ)

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہر چینٹی کے کنبے کی اپنی منفرد شخصیت ہوتی ہے

6۔ خوشی کا بھی ریاضی پر مبنی فارمولہ ہے۔

مزید معلومات کے لیے پڑھیں (كيو زیڈ)

7۔ بامی مچھلی (ايل) پر صوتی آلودگی کا الٹا اثر ہوتا ہے۔

مزید معلومات کے لئے پڑھیں (سمتھ سونین)

8۔ ایریزونا کا میسا شہر امریکہ کا سب سے زیادہ قدامت پسند شہر ہے۔

مزید معلومات کے لیے پڑھیں (دا اكنمسٹ)

9۔ خلائی مسافروں کو سپیس شٹل میں رات میں سونے کے لیے چھ گھنٹے سے بھی کم وقت ملتا ہے۔

مزید معلومات کے لیے پڑھیں (ڈیلی ٹیلیگراف)

10۔ جاڑوں میں سونے کے لیے جانے والے گریزلی ریچھ کے جسم میں ٹائپ-ٹو ذیابیطس کی علامات ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔

مزید معلومات کے لیے پڑھیں (نیو سائنٹسٹ)

اسی بارے میں