فرانس کا عراقی کردوں کو ہتھیار فراہم کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption امریکہ کرد فورس کو پہلے ہی ہتھیار مہیا کر رہا ہے

فرانس کے صدر فرنسوا اولاند نے عراق میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے کرد سکیورٹی فورسز کو ہتھیار فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فرانسیسی صدر نے کہا ہے کہ عراقی کرد سکیورٹی فورسز کو آنے والے چند گھنٹوں میں اسلحہ مہیا کر دیا جائے گا۔

فرانسیسی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق عراقی حکام نے پہلے ہی کرد سکیورٹی فورسز کو عسکری امداد فراہم کرنے کی منظور دے دی ہے۔

امریکہ شمالی عراق میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور کرد سکیورٹی کے درمیان ہونے والی لڑائی میں پہلے ہی کردوں کو ہتھیار مہیا کر رہا ہے۔

فرانسیسی صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کے فرانس کا یہ اقدام عراقی کردستان میں حکام کی جانب سے ہتھیار فراہم کرنے کی اپیل کے بعد اٹھایا ہے۔

دوسری طرف امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل کا کہنا ہے کہ امریکہ نے عراق کے شمالی کرد علاقے میں مزید 130 عسکری مشیر بھیجے ہیں۔

امریکی محکمۂ دفاع کے ایک اہلکار کے مطابق امریکی فوج کی میرین کور اور خصوصی فوجی دستوں سے تعلق رکھنے والے یہ افراد علاقے میں پھنسے افراد کی مشکلات اور صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے گئے ہیں اور وہ کسی عسکری مہم میں شریک نہیں ہوں گے۔

امریکہ شمالی عراق میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں پر فضائی حملے کر رہا ہے۔ اس تنظیم کے خوف کی وجہ سے مذکورہ علاقے سے بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔

منگل کو ریاست کیلیفورنیا میں کیمپ پینڈلٹن کے مقام پر چک ہیگل نے صحافیوں کو بتایا کہ ’یہ زمینی فوج بھیجنے جیسی کارروائی نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جائزہ ٹیم کے ارکان شمالی شہر اربیل پہنچے ہیں اور وہ ’تفصیلی جائزہ پیش کریں گے کہ ہم کہاں کہاں مدد کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔‘

پینٹاگون کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ امریکی حکومت ’سنجار میں جاری لڑائی سے متاثرہ عراقیوں‘ کی مدد کے ذرائع تلاش کرتی رہے گی تاکہ دولت اسلامیہ کی جانب سے ’انسانی نسل کشی کے واقعات‘ سے بچا جا سکے۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ شدت پسندوں کے خوف سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں افراد اب بھی شمالی عراق میں ایک پہاڑ پر پھنسے ہوئے ہیں اور انھیں زندہ رہنے کے لیے فوری مدد درکار ہے۔

عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ کوہِ سنجار پر پھنسے یزیدی فرقے سے تعلق رکھنے والے ان خاندانوں کو فوری طور پر خوراک، پانی اور انتہائی سرد موسم سے بچاؤ کے لیے عارضی پناہ گاہیں درکار ہیں۔

یہ افراد دس دن قبل اس وقت سنجار کے قصبے سے نکل کر پہاڑ پر چلے گئے تھے جب دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے ان کے قصبے پر قبضہ کر لیا تھا۔

دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے حالیہ چند ماہ میں شمالی عراق اور شام کے متعدد علاقوں پر قبضہ کیا ہے جس کے بعد وہاں سے مختلف مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عراق میں اب اندرونی طور پر نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد 12 لاکھ ہوگئی ہے

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ عراقی شہریوں کی امداد کے لیے مزید کام کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کوہِ سنجار پر پھنسے یزیدیوں اور دیگر افراد کی حالت بہت خراب ہے۔‘

اقوامِ متحدہ کے اہلکار ایڈریئن ایڈورڈسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اندازاً 20 سے 30 ہزار افراد کوہِ سنجار پر پانی، خوراک اور مناسب پناہ گاہوں کے بغیر پھنسے ہوئے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عراق میں اب اندرونی طور پر نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد 12 لاکھ ہوگئی ہے۔

اربیل میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں کام کرنے والی کیرن ڈوائر نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ یزیدی گزشتہ 72 گھنٹوں میں کوہِ سنجار کی شمالی سمت سے فرار ہو کر دریائے فرات عبور کرنے کے بعد شام پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں جہاں انھیں امداد دی جا رہی ہے۔

عراق اور شام کی سرحد پر موجود بی بی سی کی ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ انھوں نے یزیدی پناہ گزینوں کو بچوں سمیت سڑک پر لیٹے دیکھا ہے اور وہ اتنے تھکے ہوئے تھے کہ بولنے یا رونے سے بھی قاصر تھے۔

پہاڑ پر پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے جانے والے عراقی فضائیہ کے ایک ہیلی کاپٹر پر سفر کرنے والے یزیدی فرقے کے ایک امدادی کارکن کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کی صورتحال ’نسل کشی‘ جیسی ہوتی جا رہی ہے۔

مرزا دینے نامی کارکن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ اندازہ کریں کہ جب آپ پانچ ہزار افراد کے درمیان ہیلی کاپٹر اتاریں اور ان میں سے صرف دس سے بیس افراد کو لے جا سکیں تو کیا ہوگا۔ ہر کوئی ہیلی کاپٹر پر سوار ہونے کی کوشش کرتا ہے۔‘

امریکہ، برطانیہ اور فرانس یزیدی پناہ گزینوں کو امداد فراہم کر رہے ہیں۔

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ راتوں میں امریکہ اور برطانیہ کے طیاروں نے خوراک، پانی، ادویات کے 310 بنڈل گرائے ہیں۔

امریکہ نے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں پر فضائی حملوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے اور محکمۂ دفاع کے مطابق منگل کو ڈرون طیارے سے شدت پسندوں کی ایک مارٹر بیٹری کو تباہ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں