عراق: نوری المالکی اپنا عہدہ چھوڑنے پر رضامند

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نوری المالکی نے پہلے حیدر العبادی کو حکومت سازی کی دعوت کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا

عراق میں ریاستی ٹی وی چینل کا کہنا ہے کہ ملک کے وزیراعظم نوری المالکی نے اپنا عہدہ چھوڑنے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔

ان کی جگہ عراقی پارلیمان کے نائب سپیکر حیدر العبادی لیں گے اور اب حکومت بنانے کی کوشش کریں گے۔

یاد رہے کہ عراق میں جاری سیاسی بحران کے پیشِ نظر ملک کے صدر نے حیدر العبادی کو حکومت بنانے کی دعوت دی تھی تاہم نوری المالکی نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکہ عراق میں سیاسی ڈیڈ لاک کا ذمہ دار نوری المالکی کو ٹھہراتا ہے۔ ان کی حکومت کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ دیگر سیاسی عناصر کے تحفظات کا خیال نہیں کرتے رہے ہیں۔

ان پر عہدہ چھوڑنے کے لیے دباؤ میں اس وقت اضافہ ہوا جب صدر فواد معصوم سمیت ان کے شیعہ مسلک کے سیاسی اتحادیوں نے حیدر العبادی کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

جمعرات کو امریکی صدر براک اوباما نے بھی کہا تھا کہ عراقی عوام کو ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کا سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا۔

انھوں نے حیدر العبادی کی سربراہی میں ایک اتحادی حکومت کے امکان کو ایک اہم موقع قرار دیا تھا۔

صدر اوباما نے اس ممکنہ حکومت کے بارے میں کہا کہ ’حیدر العبادی کو ابھی حکومت سازی کا انتہائی مشکل کام کرنا ہوگا تاہم ہمیں تھوڑی سی امید ہے کہ چیزیں درست سمت میں جا رہی ہیں۔‘

اوباما نے ان امریکی فوجیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے جنھوں نے شمالی عراق میں ’محاصرہ توڑ‘ کر پھنسے ہوئے ہزاروں افراد کی مدد کی ہے۔

براک اوباما نے کہا کہ کوہ سنجار پر صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ نقل مکانی کرنے والے بیشتر افراد کوہِ سنجار سے روانہ ہو چکے ہیں اور امریکہ کی جانب سے مزید امدادی کارروائیوں کا منصوبہ نہیں ہے۔

یاد رہے کہ جمعرات کو ہی اقوام متحدہ نے عراق میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کی پیش قدمی کے بعد پیدا ہونے والے انسانی بحران کے پیشِ نظر انتہائی سطح کی ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے۔

عراق میں کرد حکام کے مطابق دوھک صوبے میں ڈیڑھ لاکھ مہاجرین موجود ہیں اور مقامی آبادی ان کو خوراک فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے حالیہ چند ماہ میں شمالی عراق اور شام کے متعدد علاقوں پر قبضہ کیا ہے جس کے بعد وہاں سے مختلف مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

عراقی فوج کرد فورسز کے ساتھ مل کر ان کا مقابلہ کر رہی ہے اور صدر اوباما کا کہنا ہے کہ عراقی اور کرد فورسز کے لیے امریکی مدد جاری رہے گی۔

دولتِ اسلامیہ کی پیش قدمی کے خلاف عراق کے عسکری ردِ عمل میں بغداد میں سیاسی بحران کی وجہ سے مشکلات آ رہی ہیں۔

29 جون کو شدت پسند گروپ نے شام میں حلب سے لے کر عراق میں دیالہ تک پھیلی اسلامی ریاست کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں