دولتِ اسلامیہ کو کیسے شکست دی جائے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دولتِ اسلامیہ نے عراق میں جاری سیاسی افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے

شام کے کئی علاقے پہلے ہی سے دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں ہیں اور موصل سمیت عراق کے شمالی علاقوں پر بھی یہ گروہ حاوی ہوگیا ہے۔

بی بی سی نے پانچ معروف تجزیہ کاروں سے بات کی جنھوں نے دولتِ اسلامیہ کو روکنے کے لیے اپنی اپنی تجاویز پیش کی ہیں۔

دولتِ اسلامیہ کو فضائی حملوں سے نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن ان کی شکست تبھی ہو گی جب ان کے سنی حمایتی بھی ان کے خلاف ہو جائیں اور عراق اور شام میں ذمہ دارانہ حکومتیں پھر سے جنم لے سکیں۔

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کی حال ہی میں ہونے والی برطرفی سے بھی یہ مسلہ حل نہیں ہو سکتا کیونکہ ان کے اس فیصلے سے صرف عراق اثرانداز ہو گا۔ تاہم یہ بغداد میں ایک اہل حکومت کے قیام کے لیے ضروری پہلا قدم ہے۔

سچ کہوں تو مجھے نہیں لگتا کہ مالکی کے جانشین اس مقصد کو پورا کرنے کا ارادہ یا قابلیت رکھتے ہیں لیکن ساتھ میں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم انھیں موقع دیں۔

جنگ اور خوف پھیلانے سے دولتِ اسلامیہ کو فائدہ ہوتا ہے اور اس لیے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک میں استحکام قائم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ اس میں کئی چیزیں شامل ہیں جیسے:

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران عراق اور شام کی حکومتوں کے درمیان فوجی اور انٹیلی جنس تعاون کو بڑھا سکتا ہے

دولتِ اسلامیہ کی پیش رفت کو روکنا، اردن جیسے ممالک جو دولتِ اسلامیہ کے دائرے میں آتے ہیں، ان کی حمایت کرنا، کردوں کے دفاع میں مدد کرنا، ان سنی گروپوں کی حمایت کرنا جو دولتِ اسلامیہ سے وابستہ نہیں ہیں، اور ایران کے حمایت یافتہ انتہا پسندوں کو تقویت دیے بغیر بغداد کی شیعہ قیادت والی حکومت کی حوصلہ افزائی کرنا۔

یہ سب کرنا مشکل کام ہے اور ممکن ہے کہ دولتِ اسلامیہ کئی سالوں کے لیے خطرہ بنی رہے لیکن یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جس کی پیروی کرنی چاہیے۔

دولتِ اسلامیہ کو ہرانے کے لیے تین اہم مقاصد پر غور کرنا ہوگا: اس تنظیم کی نقل و حرکت پر قابو پانا، فوج سمیت ریاستی اداروں کو مضبوط بنانا، اور گروپ کے مقامی اور علاقائی حامیوں کو ناکام کرنا۔

امریکہ اور ایران بہت سی باتوں پر متفق نہیں ہیں لیکن جب دولتِ اسلامیہ کی بات آتی ہے تو ان کا ہدف واضح طور پر مشترک ہے۔

ایران عراق اور شام کی حکومتوں کے درمیان فوجی اور انٹیلی جنس تعاون کو بڑھا سکتا ہے۔

اگر دولتِ اسلامیہ کا سامنا صرف عراق میں کیا گیا تو وہ شام چلی جائے گی اور مستقبل میں پھر کبھی واپس عراق آ سکتی ہے۔

اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان واضح فوجی اور انٹیلی جنسی تعاون قائم ہونے میں کئی رکاوٹیں ہیں۔ عراقی حکام اگر چاہیں تو ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات آگے چلانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان صف آرائی ہو، عراق دونوں کو متحد کرنے والا کردار ادا کر سکتا ہے۔

اگر بغداد اور اربیل واشنگٹن اور تہران کے درمیان فوجی، انٹیلی جنس اور سیاسی تعاون ہو تو دولتِ اسلامیہ کا مقابلہ کرنا اور تحریک کی مقامی اور علاقائی پشت پناہی کمزور کرنا آسان ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عراقی حکام اگر چاہیں تو ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات آگے چلانے میں مدد کر سکتے ہیں

دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے میں اس ہفتے ہونے والی سیاسی تبدیلیاں امریکی فضائی حملوں سے زیادہ اہم ہوں گی۔

حیدر امام آبادی تھوڑے عرصے کے لیے نوری المالکی کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں لیکن ریاست کے مستقبل کے لیے ان کا حریف شیعہ، سنی اور کرد گروپوں کے ساتھ بنیادی سیاسی اتفاق رائے قائم کرنا بہت اہم ہے تاکہ دولتِ اسلامیہ کا مقابلہ کیا جا سکے۔

سنہ 2007/2008 میں عراق میں القاعدہ کو شکست دینے میں سنی ملیشیا نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس کے باوجود مالکی کی حکومت نے ممکنہ دہشت گردوں کے طور پر سنیوں کو غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کا متعصبانہ نظریہ اگرچہ مقبولِ عام نہیں ہے لیکن بغداد حکومت کو بھی نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ رہائشی علاقوں میں سویلین ہدف بن رہے ہیں اور اس سے مسئلہ حل ہونے کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔

دولتِ اسلامیہ کی فنڈنگ اور بھرتی سے نمٹنے کے لیے علاقائی حکمت عملی کی ضرورت ہوگی اور اس کے ساتھ شام میں جاری بحران کا خاتمہ بھی کرنا ہوگا جہاں کئی جنگجو مزید انتہا پسندی کی جانب بڑھتے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ سعودی اور ایرانی حکومتوں دونوں کے خلاف ہے۔ تو کیا یہ ممکن ہے کہ شام میں امن لانے کے نام پر یہ دونوں حریف علاقائی طاقتیں مل جائیں اور حیدر امام آبادی کی مدد کریں؟

برطانیہ کی عراق میں دلچسپی کی کئی وجوہات ہیں۔ دولتِ اسلامیہ اور اس سے منسلک جہادی گروپوں کے ساتھ لڑنے کے لیے پانچ سو سے زائد برطانوی شہری اب تک وہاں جا چکے ہیں۔

اس کے علاوہ برطانیہ اردن جیسے عراق کے پڑوسی ممالک کے ساتھ قریبی تعلق رکھتا ہے۔ خلیجی جنگ کے بعد 12 سال تک کے لیے نو فلائی زون نافذ کر کے انھوں نے کردوں کو پناہ فراہم کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دولتِ اسلامیہ کو فضائی حملوں سے نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن ان کی شکست تبھی ہو گی جب ان کے سنی حمایتی بھی ان کے خلاف ہو جائیں اور عراق اور شام میں ذمہ دارانہ حکومتیں پھر سے جنم لے سکیں

اس وجہ سے برطانیہ نے دولتِ اسلامیہ کی پیش رفت کے بارے میں ہوشیار ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وزراء قومی انتخابات سے ایک سال پہلےکسی قسم کی جنگی وابستگی نہیں چاہیں گے۔

برطانیہ نے اب تک صرف پانی اور خوراک کے ائیر ڈراپ کے ذریعے مدد پر اکتفا کی ہے لیکن وہ اپنے قبرص میں تعینات جنگی طیاروں کے استعمال سے آپریشن مزید بڑھا سکتا ہے۔ اس طرح برطانیہ امریکہ کا بوجھ بھی ہلکا کر سکتا ہے۔

تاہم ایسی برطانوی افواج کو مختصر مشن اور امریکی مقاصد کے مطابق استعمال کیے جانے کا زیادہ امکان ہیں۔ ان مقاصد میں کرد علاقوں کا دفاع کرنا اور اقلیتوں کی مدد کرنا شمار ہیں، نہ کہ دولتِ اسلامیہ کو شست دینا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برطانیہ کی عراق میں دلچسپی کی کئی وجوہات ہیں

دولتِ اسلامیہ کو ہرانے کے لیے برطانیہ کو ایک طویل مدت کا منصوبہ بنانا ہو گا جس میں اس کی توجہ کرد فورسز کی بالواسطہ حمایت، تربیت، اور مسلح فراہم کرنے پر مرکوز ہونی چاہیے۔اس کے علاوہ برطانیہ حیدر امام آبادی کی نئی حکومت کی مدد کر سکتا ہے تاکہ عراق اپنی کمزور فوج کو پھر سے مضبوط کر سکے۔

دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے سیاسی نہ کہ عسکری راستہ اہم ہے۔

نئی حکومت کو: سنیوں اور کردوں کو ایک دوسرے سے رابطے میں رکھنا ہو گا۔ اس کے علاوہ یہ واضح کرنا کہ فرقہ وارانہ تقسیم ختم ہوگئی ہے، یہ ظاہر کرنا ہو گا کہ ملک کی سیاسی اور تیل کی دولت کی برابر تقسیم کی جائے گی، اور نئی حکومت کو اس بات کا بھی مظاہرہ کرنا ہو گا کہ شیعہ فورس یا ملیشیا تعینات کرنے کی بجائے وہ عراق کی خاطر ایک قومی سکیورٹی فورسز کی تشکیل کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے ایک طویل عرصے سے ملک کو تقسیم کیا ہے

امریکی مدد صرف تبھی کامیاب ہو سکتی ہے اگر عراقی پہلے خود متحد ہوں اور اپنی مدد آپ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ پھر بھی کامیابی کے امکانات کی پیش گوئی نہیں ہو سکتی۔

سابق عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے ایک طویل عرصے سے ملک کو تقسیم کیا ہے اور خانہ جنگی کی طرف دھکیلا ہے۔ اس لیے دولتِ اسلامیہ کو ہرانا آسان نہیں ہو گا اور یہاں تک کہ اس کی شکست یا خاتمے سے بھی شاید عراق تقسیم ہی رہے۔

اسی بارے میں