موصل ڈیم پر شدت پسندوں کا قبضہ ختم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شدت پسندوں سے بند کا قبضہ چھڑانے کا آپریشن اتوار کی صبح شروع کیا گیا

کرد فوج کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی عراق کے شہر موصل میں ملک کے سب سے بڑے بند پر قابض دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو شکست دے دی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اب کرد فوج موصل سے 30 کلومیٹر دور دریائے دجلہ پر واقع اس ڈیم کے احاطے کو محفوظ بنانے کے عمل میں مصروف ہے اور بارودی سرنگیں ہٹانے میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے اس ڈیم پر سات اگست کو قبضہ کیا تھا اور خدشہ تھا کہ وہ شمالی عراق کو پانی و بجلی کی فراہمی کے اس مرکز کو نشیبی علاقہ جات میں سیلاب لانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

کرد فوج نے ان شدت پسندوں سے بند کا قبضہ چھڑانے کا آپریشن اتوار کی صبح شروع کیا جس میں انھیں امریکی جنگی طیاروں کی مدد بھی حاصل تھی۔

اگر بند کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ دولتِ اسلامیہ کی عراق میں مہم جوئی کے آغاز کے بعد سے ان کے لیے سب سے بڑا دھچکا ہوگا۔

امریکی فوج کے خصوصی دستوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اتوار کو موصل ڈیم پر موجود دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کی ایک شناختی چوکی اور 19 گاڑیاں تباہ کیں یا انھیں نقصان پہنچایا۔

عراق کے سابق وزیر خارجہ اور کرد لیڈر ہوشيار زیباري نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کرد پیش مرگا فوجیوں کو بند پر قبضے کے دوران زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کا مقابلہ ’شوقیہ جہادیوں سے نہیں تھا۔‘

ا ن کا کہنا ہے کہ اب اگلا ہدف صوبہ نینوا کے بڑے میدانی حصے کو دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں سے آزاد کرنا ہے تاکہ اقلیتی آبادی واپس اپنے گھر لوٹ سکے۔

سنی شدت پسند گروپ دولت اسلامیہ نے رواں برس موسم گرما میں موصل پر قبضہ کیا تھا اور اس کے بعد سے نینوا سے ہزاروں عیسائی اور یزیدی اپنا گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی کر گئے ہیں۔

اسی بارے میں