سعودی عرب: ایک ہی خاندان کے چار افراد کو سزائے موت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انسانی حقوق کے ادارے کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں سزائے موت کے استعمال میں تیزی آئی ہے جو پریشان کن بات ہے

سعودی عرب میں حکام نے ایک ہی خاندان کے چار افراد کو منشیات رکھنے کے جرم میں سزائے موت دے دی ہے۔

جنوب مشرقی شہر نجران میں بڑی مقدار میں چرس رکھنے کے جرم میں بھائیوں کی دو جوڑیوں کو موت کی سزا سنائے جانے کے بعد پیر کے روز اس پر عمل کر دیا گیا۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس کیس کی بنیاد ملزموں کے اعترافِ جرم کے بیانات پر رکھی گئی ہے جو تشدد کر کے حاصل کیے گئے تھے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں سزائے موت کے استعمال میں تیزی آئی ہے جو کہ پریشان کن بات ہے۔

گذشتہ دو ہفتوں میں 17 افراد کو سزائے موت دی گئی ہے جبکہ اس سے پہلے چھ ماہ میں 17 افراد کو یہ سزا دی گئی تھی۔

2013 میں سعودی حکام نے 79 افراد کو یہ سزا دی گئی جن میں سے تین مجرم ایسے تھے جن کی عمر جرم کے وقت 18 سال کی عمر سے کم تھی۔

سزائے موت پانے والے چار افراد کے نام ہادی المطلق، عواد المطلق، مفریح الیامی اور علی الیامی ہیں۔ انھیں وزارتِ داخلہ کے جنرل ڈائریکٹوریٹ برائے تفتیش نے گرفتار کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق ان افراد سے جرم اگلوانے کے لیے انھیں مارا پیٹا گیا اور نیند سے محروم رکھا گیا۔

ایمنسٹی نے کہا ہے کہ گذشتہ جمعرات کو ان افراد کے خاندان والوں نے ان سے رابطہ کیا تھا۔ تاہم اس کے چند گھنٹوں بعد وزارتِ داخلہ کے حکام نے اس خاندان کو خبردار کیا کہ وہ تنظیم سے رابطہ ختم کر دیں۔

ایمنسٹی کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر سعید بومدوہا کا کہنا ہے کہ ’یہ دھونس اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی نگرانی سعودی عرب کی جانب سے سزائے موت پر ایک اور منحوس تہہ چڑھا رہی ہے۔

’یہ اس بات کی واضح شہادت ہے کہ حکام ملک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی خبروں کو بیرونی دنیا تک پہنچنے سے روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔‘

وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ ملزموں کو تین عدالتوں نے مجرم قرار دیا تھا جن میں ایک اپیل کورٹ بھی شامل ہے۔

سعودی حکام نے بار بار کہا ہے کہ وہ ملزموں پر تشدد نہیں کرتے۔

اسی بارے میں