مزوری:پولیس کے ہاتھوں ایک اور سیاہ فام لڑکا ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس نے فرگوسن میں پرتشدد مظاہروں کے بعد پولیس نے 31 افراد کو گرفتار کیا ہے

امریکی ریاست میزوری میں پولیس کے ہاتھوں ایک اور سیاہ فام لڑکے کی ہلاکت کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔

ہلاکت کا یہ تازہ واقعہ منگل کو ریاستی دارالحکومت سینٹ لوئیس میں پیش آیا اور مقامی پولیس کے سربراہ سیم ڈوسٹن کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص چاقو سے مسلح تھا اور انھیں للکار رہا تھا۔

اس سے قبل سینٹ لوئیس کے مضافاتی علاقے فرگوسن میں 9 اگست کو پولیس نے ایک 18 سالہ سیاہ فام نوجوان مائیکل براؤن کو ہلاک کیا تھا جس کے بعد علاقے میں ہنگامے شروع ہوگئے تھے۔

مقامی سیاہ فام آبادی میں اس نہتے لڑکے کی ہلاکت پر علاقے کی سفید فام اکثریت والی پولیس کے خلاف شدید اشتعال پایا جاتا ہے اور منگل کو ایک اور ہلاکت کے بعد حالات مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

فرگوسن میں مائیکل براؤن پر گولی چلانے والے اہلکار کی گرفتاری کے لیے مظاہرے جاری ہیں اور .امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر اس ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے حکام سے ملاقات کے لیے بدھ کو فرگوسن پہنچ رہے ہیں۔

منگل کو ہونے والی ہلاکت کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ دو پولیس افسران نے دوپہر کے وقت چاقو سے مسلح ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کیا۔

یہ واقعہ مائیکل براؤن کی جائے ہلاکت سے چار میل کی دوری پر پیش آیا۔

سینٹ لوئیس کی پولیس کے سربراہ سیم ڈوسٹن کے مطابق عینی شاہدین نے اطلاع دی تھی کہ اس شخص کا رویہ جارحانہ ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیس اہلکاروں کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مزوری میں سیاہ فام ہلاکتوں کے بعد حالات کشیدہ ہیں

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’مشتبہ شخص پولیس اہلکاروں کی جانب مڑا، اس نے چاقو نکالا اور پھر اہلکاروں کو للکارا کہ ’مجھ پرگولی چلا کر دکھاؤ۔ مجھے مار کر دکھاؤ۔‘

مائیکل براؤن کے قتل کے معاملے میں سینٹ لوئیس کا دفترِ استغاثہ بدھ کو گرینڈ جیوری کے سامنے گولی چلانے والے اہلکار کے خلاف ثبوت پیش کرے گا۔

شہریوں پر مشتمل یہ جیوری فیصلہ کرے گی کہ ڈیرن ولسن نامی پولیس اہلکار کو اس ہلاکت کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جائے یا نہیں۔

ولسن کو معطل کیا گیا ہے اور ان کی تنخواہ روک دی گئی ہے جبکہ براؤن کے خاندان والوں کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ افسر کو گرفتار کر کے سزا دی جائے۔

مائیکل براؤن کی ہلاکت کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اہلکار نے براؤن پر اس وقت گولی چلائی جب وہ اپنے ہاتھ سر پر رکھے ہوئے تھا جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ گولی براؤن اور ولسن کے درمیان جدوجہد کے دوران چلی۔

براؤن کے خاندان کی طرف سے ایک ڈاکٹر نے مائیکل براؤن کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا ہے جبکہ محکمۂ انصاف کی طرف سے ان کے لاش کا ایک اور پوسٹ مارٹم ہونا ابھی باقی ہے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق براؤن کو چھ گولیاں ماری گئی جن میں سے دو ان کے سر میں لگیں جبکہ ان کے جسم پر کسی قسم کی لڑائی کے آثار نہیں ملے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ براؤن کو دو فٹ سے زیادہ فاصلے سے گولیاں ماری گئیں کیونکہ لاش پر گن پاؤڈر کے کوئی اثرات نہیں تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فرگوسن میں حالات خراب ہونے کے بعد نیشنل گارڈز کو تعینات کیا گیا ہے

پیر کی شب پولیس نے فرگوسن میں پرتشدد مظاہروں کے بعد پولیس نے 31 افراد کو گرفتار کیا تھا۔

میزوری ہائی وے پیٹرول کے اہلکار رون جونسن نے کہا ہے کہ پولیس اہلکاروں کو آنسو گیس استعمال کرنا پڑی کیونکہ ان پر ’فائرنگ کی گئی اور پیٹرول بموں سے حملہ کیا گیا۔‘

.امریکی صدر براک اوباما نے بھی عوام کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی ہے۔ انھوں نے فرگوسن کے مقامی لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ آپس میں ’ہم آہنگی‘ پیدا کریں۔

ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ وہ نوجوان لڑکے کی ہلاکت پر غم و غصے کے اظہار کو سمجھتے ہیں لیکن لوٹ مار کرنے، اسلحہ لے کر گھومنے اور پولیس پر حملے کرنے سے کشیدگی بڑھتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔‘

امریکی اٹارنی جنرل نے میزوری آمد سے قبل کہا ہے کہ ’مجھے اس حقیقت کا احساس ہے کہ لوگوں میں مائیکل براؤن کی ہلاکت کی وجوہات جاننے میں دلچسپی ہے۔ لیکن میں لوگوں سے صبر و تحمل کی اپیل کرتا ہوں تاکہ ہم یہ تحقیقات کر سکیں۔‘

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مائیکل براؤن کی موت کی وجوہات جاننا قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کے درمیان اعتماد قائم کرنے میں ’ایک اہم قدم‘ ہے۔

اسی بارے میں