اسرائیلی حملے میں حماس کے تین کمانڈر ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غزہ میں اسرائیلی حملے میں تباہ ہونے والی عمارت

حماس نے بتایا ہے کہ غزہ کے ایک مکان پر حملے میں غزہ کے تین اہم فوجی کمانڈر ہلاک ہو گئے ہیں۔

محمد ابو شاملہ، محمد برہوم اور رائد العطار جنوبی قصبے رفح کے قریب حملے میں ہلاک ہوئے۔ فلسطینی امدادی ذرائع نے کہا ہے کہ اس حملے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

منگل کو قاہرہ میں امن مذاکرات ناکام ہونے کے بعد جنگ ایک بار پھر پھوٹ پڑی تھی۔ منگل کو حماس کے ایک فوجی کمانڈر محمد ضیف کی بیوی اور بچہ مارے گئے تھے۔

خود محمد ضیف اس حملے میں بچ گئے تھے۔

اسرائیل اس وقت تک جنگ جاری رکھنے کا تہیہ کر رکھا ہے جب تک ’مکمل سلامتی‘ حاصل نہیں ہو جاتی۔

فریقین کے درمیان شدید لڑائی میں اب تک 2103 افراد مارے جا چکے ہیں۔ 67 اسرائیلیوں کو چھوڑ کر باقی تمام فلسطینی ہیں، جن کی اکثریت عام شہریوں پر مشتمل ہے۔

فلسطینی طبی اہلکار اشرف الخضرا نے خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ رفح پر اسرائیل کے حملے سے ایک چار منزلہ عمارت منہدم ہو گئی، جس کے بعد ’درجنوں‘ افراد لاپتہ ہیں۔

بی بی سی کے یولینڈ نیل نے خبر دی ہے کہ ہلاک ہونے والے تینوں کمانڈر اہم کارروائیوں میں ملوث تھے جن میں سمگلنگ، سرنگوں کی تعمیر اور 2006 میں اسرائیلی فوجی گیلاد شالت کا اغوا شامل ہیں۔

ادھر اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے غزہ میں جنگجوؤں کے خلاف عسکری مہم جاری رکھنے کے عزم کو دہرایا ہے۔

ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ ’ہم اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک تمام اسرائیلی شہریوں کی سلامتی کو یقینی نہ بنا لیں۔‘

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا کہ حماس اور شدت پسند گروپ دولتِ اسلامیہ ایک جیسے ہیں۔ انھوں نے دونوں تنظیموں کو ’ایک ہی درخت کی شاخیں‘ قرار دیا۔

غزہ میں فریقین کے درمیان موجودہ جنگ بندی گذشتہ بدھ کو ہوئی تھی جس کی مہلت پیر اور منگل کی درمیانی شب کو ختم ہونی تھی تاہم پیر کو جنگ بندی کے معاہدے میں 24 گھنٹے کی توسیع کی گئی تھی لیکن قاہرہ میں امن بات چیت ناکام ہونے کے بعد فریقین کے مابین دوبارہ لڑائی شروع ہو گئی۔

مصر نے مذاکرات کے جاری دوران جنگ بندی ختم ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اور کہا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان طویل مدتی صلح کرنے کی کوششیں کرتا رہے گا۔

اسی بارے میں