’پکاڈلی اور آ کسفرڈ سرکس محفوظ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایک شہری محمد العوضی کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنی حکومت کی جاری کردہ ہدایات کی پیروی کرنی چاہیے

متحدہ عرب امارات کے سرکاری نقشے میں لندن جانے والے سیاحوں کو پکاڈلی اور آ کسفورڈ سرکس جانے سے گریز کرنے کا کہا گیا ہے۔

روزنامہ نیشنل ڈیلی کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ کی ویب سائٹ پر یہ حفاظتی مراسلہ لندن میں امارات کے باشندوں پر حملوں کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

نئے نقشے میں جن علاقوں کو ’زیادہ خطرناک‘ قرار دیا گیا ہے اس میں متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کی پسندیدہ جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں سوہو اور آ کسفورڈ سٹریٹ شامل ہیں۔

خیال رہے کہ آکسفرڈ سٹریٹ پر ’سیلفرجز‘ نامی ڈیپارٹمنٹل سٹور واقع ہے جو متحدہ عرب امارات کے سیاحوں کا پسندیدہ سٹور ہے۔

اس نقشے میں شیپرڈ بش مارکیٹ اور کوینز وے کو ’کم محفوظ‘ قرار دیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے اپنے شہریوں کو فراڈ، چوری اور جیب کٹنے جیسے واقعات کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا حفاظتی مراسلہ لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس کی ویب سائٹ پر دی گئی معلومات پر مبنی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے متعدد شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اس حفاظتی مراسلے کو سنجیدگی سے لیں گے۔

ایک شہری محمد العوضی کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنی حکومت کی جاری کردہ ہدایات کی پیروی کرنی چاہیے۔

دوسری جانب 29 سالہ مونا العلی کا خیال ہے کہ خلیج سے جانے والے افراد کو خاص طور پر نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والا یہ حفاظتی مراسلہ لندن میں امارات کے دو باشندوں پر حملے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

اپریل میں ماربل آرچ کے قریب واقع کمبرلینڈ ہوٹل کے پاس متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والی تین خواتین پر ایک چور نے ہتھوڑی سے حملہ کر دیا تھا۔

اس واقعے کے دو ہفتوں بعد پیڈنگٹن کے علاقے کے ایک فلیٹ میں ایک جوڑے کو بندوق دکھا کر دھمکایا گیا تھا۔