دولتِ اسلامیہ کی دھمکی کے باوجود امریکی بمباری

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی حکام کے مطابق جیمز فولی کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد امریکی افواج نے 14 حملے کیے ہیں

دولتِ اسلامیہ کی جانب سے ایک اور امریکی مغوی کو ہلاک کیے جانے کی دھمکی کے بعد امریکی جنگی جہازوں نے شمالی عراق میں اس تنظیم کے جنگجوؤں پر حملے کیے ہیں۔

امریکی بحریہ کے لڑاکا طیاروں اور ڈرونز نے کرد اور عراقی افواج کی مدد کے لیے حملے کیے جو عراقی شہر موصل کے قریب لڑ رہے ہیں۔

منگل کو دولتِ اسلامیہ نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں ایک امریکی صحافی جیمز فولی کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ فولی 2012 میں غائب ہو گئے تھے۔

اس ویڈیو میں شدت پسندوں نے ایک اور امریکی مغوی رپورٹر کو قتل کرنے کی دھمکی کی ہے۔

جب سے یہ ویڈیو جاری کی گئی ہے امریکی افواج نےموصل کے ڈیم کے قریب 14 مزید فضائی حملے کیے ہیں جسے چند دن قبل اسلامی شدت پسندوں کے قبضے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ان حملوں میں امریکی حکام کے مطابق دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے نشانوں اور گاڑیوں کو کامیابی سے تباہ کیا گیا۔

امریکہ نے آٹھ اگست کے بعد سے دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر حملے شروع کیے تھے جس نے عراق اور شام کے بڑے حصوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ نے آٹھ اگست کے بعد سے دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر حملے شروع کیے تھے

اس ویڈیو میں شدت پسند گروپ دولتِ اسلامیہ کا کہنا تھا کہ جمیز فولی کا قتل امریکہ کی طرف سے عراق میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں پر بمباری کا بدلہ ہے۔

اس کے بعد امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ امریکی صحافی جیمز فولی کا سر قلم کرنا ’تشدد کا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے پوری دنیا کے ضمیر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔‘

پینٹاگون نے نے ایک بیان میں کہا کہ ان مغویوں کی بازیابی کی لیے فضائی و زمینی آپریشن کیا گیا جس کا ہدف دولتِ اسلامیہ کے اغواکاروں کا نیٹ ورک تھا۔

’بدقسمتی سے یہ مشن کامیاب نہیں ہو سکا کیونکہ مغوی ہدف بنائے گئے مقام پر موجود نہیں تھے۔ اس آپریشن میں فضائی اور زمینی کارروائی شامل تھی۔‘

یہ پہلی بار ہے کہ امریکی حکومت نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ شام میں 2011 میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد اس کی افواج نے شام میں کارروائی کی تھی۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے لکھا کہ یہ حملہ ملک کے شمال میں ایک آئل ریفائنری پر کیا گیا تھا۔

اس اہلکار نے بتایا کہ کمانڈوز کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اتارا گیا مگر انھیں پتا چلا کہ مغویوں کو کچھ دیر قبل ہی اس جگہ سے ہٹایا جا چکا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ امریکی صحافی جیمز فولی کا سر قلم کرنا ’تشدد کا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے پوری دنیا کے ضمیر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔‘

اس بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کارروائی کا مقصد فولی کی رہائی تھا یا نہیں جنھیں نومبر 2012 میں شام میں اغوا کیا گیا تھا۔

فولی کی عمر 40 سال تھی اور انھوں نے مشرق وسطیٰ میں کئی مقامات سے رپورٹنگ کی۔ وہ امریکی اخبار گلوبل پوسٹ اور دوسرے میڈیا اداروں کے لیے کام کر رہے تھے۔

جیمز فولی کے قتل کی مبینہ ویڈیو میں انھوں نے اپنے خاندان کو پیغام دیا اور اپنی موت کو امریکہ کی عراق میں بمباری کی مہم کا نتیجہ قرار دیا۔

جیمز فولی کے قتل کی مبینہ ویڈیو میں انھوں نے اپنے خاندان کو پیغام دیا اور اپنی موت کو امریکہ کی عراق میں بمباری کی مہم کا نتیجہ قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption موصل کے قریب امریکی فضائی حملے جاری رہے ہیں

انھوں نے کہا کہ ’میں اپنے دوستوں، خاندان والوں اور چاہنے والوں کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ حقیقی قاتلوں یعنی امریکی انتظامیہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں کیونکہ جو کچھ بھی میرے ساتھ ہو گا اس کی وجہ اُن کا مجرمانہ رویہ اور معاونت ہے۔‘

اس کے بعدایک اور مغوی جنھیں امریکی صحافی سٹیون سوٹلوف کو دکھایا گیا ہے اور اس میں خبردار کیا گیا کہ ان کے مستقبل کا انحصار صدر اوباما کے اگلے قدم پر ہے۔

سوٹلوف کو ایک سال قبل شمالی شام سے اغوا کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں