غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، مزید دو فلسطینی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption غزہ شہر میں واقع ایک 12 منزلہ عمارت پر سنیچر کو دو میزائل داغے گئے

غزہ پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور اتوار کو ہونے والے ایک حملے میں دو فلسطینی ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

فلسطینی امدادی کارکنوں کے مطابق یہ حملہ صبح پانچ بجے کے قریب غزہ کے مغربی حصے میں کیا گیا۔

حملے میں ایک موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نشانہ بنے جو بعدازاں ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئے۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل اور حماس سے کہا ہے کہ وہ مصر میں دوبارہ مذاکرات شروع کریں۔

مصری وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ مصر ایسی کسی بھی بات چیت میں دوبارہ ثالثی کے لیے تیار ہے۔ مصر نے فریقین سے فوری جنگ بندی کی اپیل بھی کی ہے.

قاہرہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والا جنگ بندی کا معاہدہ منگل کو اسرائیلی حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد ٹوٹ گیا تھا۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے مزید 65 فلسطینی مارے جا چکے ہیں جبکہ اسرائیلی کارروائی میں مجموعی طور پر 2100 کے قریب فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر عام شہری ہیں۔

سنیچر کو اسرائیلی طیاروں نے غزہ کے مختلف حصوں پر بمباری جاری رکھی جس سے دو بچوں سمیت دس افراد مارے گئے۔

Image caption اسرائیل اور حماس مصر میں دوبارہ مذاکرات شروع کریں: محمود عباس

ان حملوں میں ایک 12 منزلہ عمارت بھی منہدم ہوئی اور اس واقعے میں 22 فلسطینی زخمی ہوئے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے غزہ سے اسرائیلی علاقے پر 525 راکٹ داغے گئے ہیں جن میں سے 69 دفاعی نظام نے تباہ کیے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ سنیچر کو غزہ پر 60 فضائی حملے کیے گئے جبکہ 70 راکٹ اسرائیلی علاقے میں گرے۔

ان حملوں میں غزہ شہر میں واقع ایک 12 منزلہ عمارت پر دو میزائل داغے گئے اور اس حملے میں عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

فلسطینی طبی عملے کے مطابق اس حملے میں چار بچوں سمیت 22 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایک اسرائیلی فوجی افسر کا کہنا ہے کہ حماس کے شدت پسند اس عمارت کو کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

اس عمارت میں رہنے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں اسے خالی کرنے کے لیے صرف 30 منٹ کی وارننگ دی گئی تھی۔

سنیچر کو حملوں سے قبل اسرائیل نے غزہ پر تنبیہی پمفلٹ بھی گرائے جن میں کہا گیا تھا کہ ان تمام علاقوں کو نشانہ بنایا جاتا رہے گا جہاں سے اسرائیل کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔

اسی بارے میں