مشرقی یوکرین میں یرغمال فوجیوں کی پریڈ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دونیتسك کے وسط میں علیحدگی پسند فوج نے یوکرین کے فوجیوں کو مارچ کروایا

مشرقی یوکرین کے علاقے دونیتسك میں روس نواز علیحدگی پسندوں نے یرغمال بنائے گئے یوکرین کی حکومت کے کئی فوجیوں سے سڑک پر پریڈ کروائی۔

یہ واقعہ یوکرین کے یوم آزادی پر ہوا ہے۔ اتوار کو دونیتسك کے وسط میں علیحدگی پسند فوج نے یوکرائن کے فوجیوں کو مارچ کروایا۔ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔

خبر رساں ایجنسی رؤٹرز کے مطابق سڑکوں کے کنارے کھڑے مقامی افراد بھی کافی مشتعل دکھائی دیے۔ وہ یرغمال بنائے گئے فوجیوں تبصرے کر رہے تھے اور کچھ لوگوں نے ان پر بوتلیں بھی پھینکیں۔

اسی اثنا میں یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینكو نے علیحدگی پسندوں سے لڑنے کے لیے فوج کو کافی آلات سے لیس کرنے کے لیے تین ارب روپے خرچ کرنے کا اعلان بھی کیا۔

وہیں دوسری طرف یوکریں کی فوج اور بحریہ نے دارالحکومت كیئف میں پریڈ کی اور کرتب دکھائے۔

2009 کے بعد سے پہلی بار یوکرین کی فوج نے اس طرح کی پریڈ کی۔ یوکرین کے روس نواز سابق صدر وکٹر يانوكووچ نے انھیں بند کروا دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حکومت اور علیحدگی پسندوں کے درمیان جاری لڑائی میں 2000 سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں

حالیہ مہینوں میں حکومت اور علیحدگی پسندوں کے درمیان جاری لڑائی میں 2000 سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔

مشرقی یوکرین میں عدم استحکام کی وجہ سے تقریبا 330،000 سے زائد افراد اپنا گھر چھوڑ چکے ہیں۔

یہ تشدد دونیتسك اور لوہانسك علاقوں میں یوکرین سے الگ ہونے کے اعلان کے بعد سے جاری ہے۔ کشیدگی کا آغاز روس کی جانب سے كرائميا کے خطے سے دوبارہ الحاق سے ہوا۔

جب سے یہ بحران شروع ہوا ہے تب سے دونیتسك جنگ مرکز رہا ہے۔

یوکرین کے وزارت دفاع نے یرغمال بنائے گئے یوکرین کے فوجیوں کی پریڈ کروائے جانے کی مذمت کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ادھر یومِ آزادی پر کیئف میں بھی فوج نے پریڈ کی
تصویر کے کاپی رائٹ UNIAN
Image caption 2009 کے بعد سے پہلی بار یوکرین کی فوج نے اس طرح کی پریڈ کی

اسی بارے میں