’شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے‘

Image caption شامی شہر حلب جہاں حکومتی اور باغی افواج کے درمیان خونریز لڑائیاں ہوئیں

اقوامِ متحدہ نے شامی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے آٹھ مختلف مواقع پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے یہ بھی کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے کئی بار لوگوں کو شہریوں کے سامنے سرِ عام قتل کیا ہے جسے بچوں کو بھی دیکھنے پر مجبور کیا گیا۔

دولتِ اسلامیہ شام کے خاصے حصے پر قابض ہے، اور ان گروہوں میں سے ایک ہے جو شامی صدر بشار الاسد کے خلاف جنگ میں شریک ہیں۔

یاد رہے کہ شام میں خانہ جنگی اب چوتھے سال میں داخل ہو رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی اس رپورٹ کے نتائج جنوری سے جولائی یعنی چھ مہینوں کے دوران جمع کیے جانے والے محیط انٹرویوز اور شواہد پر مشتمل ہے جو شام کے اندر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کی جانے والی تحقیق کا حصہ تھے۔

اسی عرصے کے دوران دولتِ اسلامیہ یا داعش نے شام اور عراق میں زور پکڑنا شروع کیا۔

دوسری جانب تفتیش کاروں نے کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو شمالی شام کی آبادیوں میں سرِ عام لوگوں کو قتل کر کے، کوڑے مار کر یا ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ کر آبادیوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔

اس رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’ان ہلاک شدہ افراد کی لاشیں سرِ عام بازاروں میں نمائش کے لیے لگا دی جاتی ہیں جو کئی دنوں تک لٹکی رہتی ہیں اور مقامی آبادی کو خوفزدہ کرتی رہتی ہیں۔ عورتوں کو دولتِ اسلامیہ کے بیان کردہ لباس کی خلاف ورزی کرنے پر کوڑے مارے جاتے ہیں۔ رقہ صوبے میں دس سال کی عمر کے بچوں کو دولتِ اسلامیہ کے تربیتی مراکز میں بھرتی کیا جا رہا ہے۔‘

پاؤلو پِنیرو اس کمیشن کے سربراہ ہیں۔ انھوں نے اس سارے عمل کے پورے خطے پر بدترین اثرات کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شام کا شہر حلب جو خانہ جنگی کے نتیجے میں تباہی اور بربادی کا منظر پیش کر رہا ہے

انھوں نے کہا کہ ’عالمی برادری کی اپنی انتہائی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہی ہے جن میں عام شہریوں کا تحفظ، ظالمانہ کارروائیوں کو روکنا اور احتساب کے لیے راستہ ہموار کرنا شامل تھے۔ سب کچھ اس حد تک حالات کے رحم و کرم پر ہے کہ اب عالمی قوانین کی پاسداری کا دکھاوا تک نہیں رہا۔‘

اس کمیشن کے تفتیش کاروں نے خبردار کیا کہ یہ تنازع پہلے ہی عراق تک پھیل چکا ہے اور اب تمام خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

اسی بارے میں