غزہ: اسرائیل، فلسطین طویل مدتی جنگ بندی پر متفق

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک سینئیر اسرائیلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیل غزہ میں لامحدود جنگ بندی کے لیے مصر کے اقدام کو قبول کرتا ہے

اسرائیل اور فلسطین کے حکام کے مطابق اسرائیل اور حماس سات ہفتے کی لڑائی اور 2200 ہلاکتوں کے بعد جنگ بندی کے طویل مدتی معاہدہ پر متفق ہو گئے ہیں۔

مصر کی کوششوں سے ہونے والی جنگ بندی کے نئے معاہدے پر جمعرات کے دن گرینج کے معیاری وقت کے مطابق چار بجے عمل درآمد شروع ہو گا۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان سات ہفتوں سے جاری لڑائی میں اب تک 2,200 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

غزہ میں کون، کہاں مارا گیا؟

حماس نے اس معاہدے کو ’مزاحمت کی فتح‘ قرار دیا ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق غزہ میں امداد اور عمارات کا تعمیری سامان پہنچانے کے لیے اسرائیل غزہ کے محاصرہ میں نرمی کرے گا۔

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں عسکریت پسندوں کو غیر مسلح کرنے جیسے مطالبات سمیت دیگر نزاعی معاملات پر بالواسطہ مذاکرات قاہرہ میں ایک ماہ کے دوران شروع ہو جائیں گے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی خاتون ترجمان جین ساکی کا کہنا ہے کہ امریکہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے اعلان کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی اسرائیل فلسطین جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔

فریقین کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ایک ایسے وقت ہوا جب ان کے ایک دوسرے پر حملے جاری تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکی وزارتِ خارجہ کی خاتون ترجمان جین ساکی کا کہنا ہے کہ امریکہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے اعلان کی مکمل حمایت کرتا ہے

اسرائیل کے طبی عملے کے مطابق جنگ بندی کے معاہدے سے پہلے غزہ سے داغے جانے والے ایک راکٹ میں ایک اسرائیلی شہری ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے۔

اس سے پہلے منگل کو اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ مصر کی جنگ بندی کی تجویز کے مطابق اسرائیلی جارحانہ کارروائیوں کا غیر معینہ مدت کے لیے خاتمہ، اسرائیل اور مصر کے ساتھ غزہ کی سرحدی چوکیوں کو فوری طور پر کھولنا اور بحیرۂ روم میں ماہی گیری کے علاقے کی توسیع شامل ہیں۔

اسرائیل اور فلسطینی دھڑے غزہ میں بندر گاہ، ہوائی اڈے کی تعمیر اور 100 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بارے میں ایک ماہ بعد مذاکرات کریں گے۔

دوسری جانب اسرائیل اور مصر نے فلسطین سے اس عرصے کے دوران غزہ میں ہتھیار اسمگل نہ کرنے کی ضمانت طلب کی ہے۔

ادھر غزہ میں جنگ بندی کی خوشی میں سڑکوں پر فائرنگ کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فلسطین کی وزارتِ صحت کے حکام کے مطابق غزہ میں اسرائیل کے حملوں میں 2,138 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد عام شہریوں کی ہے

حماس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم خدا کی مدد، ہمارے لوگوں کی استقامت، مزاحمت کی کامیابی اور غزہ کی فتح کا اعلان کرتے ہیں۔

ایک سینئیر اسرائیلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیل غزہ میں لامحدود جنگ بندی کے لیے مصر کے اقدام کو قبول کرتا ہے۔

اہلکار کے مطابق جنگ بندی میں حماس کی جانب سے غزہ میں بندر گاہ، ہوائی اڈے کی تعمیر اور 100 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ شامل نہیں ہے اور اس کے لیے فریقین مصر میں ایک ماہ بعد مذاکرات کریں گے۔

اس سے قبل قاہرہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والا جنگ بندی کا معاہدہ منگل کو اسرائیلی حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد ٹوٹ گیا تھا۔

اسرائیل نے آٹھ جولائی کو غزہ سے راکٹ داغنے کے واقعات کو روکنے کے لیے فوجی کارروائی شروع کی تھی جس کے بعد غزہ میں حماس کی سرنگوں کو تباہ کرنے کا ہدف بھی فوجی مشن کا حصہ بن گیا تھا۔

اسی بارے میں