’دولتِ اسلامیہ نے شامی فوجیوں کا قتلِ عام کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISIS
Image caption انٹرنیٹ پر جاری کی جانے والی اس تصویر میں شامی فوجیوں کو جانگیہ پہنے ہوئے قطار میں دیکھا جا سکتا ہے

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ شدت پسندگروہ دولتِ اسلامیہ نے بظاہر ’درجنوں‘ شامی فوجیوں کا قتلِ عام کیا ہے۔

لندن میں قائم انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے شامی ادارے سیریئن آبزرویٹری نے کہا ہے کہ اس نے کئی فوجیوں کو حمہ کے صوبے میں واقع طقبہ کے فوجی اڈے سے فرار ہوتے ہوئے پکڑ لیا تھا۔

اس تنظیم کے مطابق دولتِ اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے ٹوئٹر اکاؤنٹس پر 200 فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

بدھ کو انٹرنیٹ پر جاری کی گئی ویڈیوز اور تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف جانگیے میں ملبوس درجنوں فوجیوں کو صحرا میں بندوقوں کی نوک پر لے جایا جا رہا ہے۔

ویڈیو میں شدت پسند چلاتے ہیں: ’دولتِ اسلامیہ‘ اور ’اب کوئی واپسی نہیں ہے۔‘

اس سے قبل گذشتہ ہفتے شائع ہونے والی تصاویر میں دکھایا گیا کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے فوجی اڈے پر کم از کم سات افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

شامی فوج کا تقبہ کا اڈہ شمالی صوبے رقہ میں ہے جو دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں اتوار کو شدید لڑائی کے بعد آیا۔

سیریئن آبزرویٹری کے مطابق آخری لڑائی میں دولتِ اسلامیہ کے 346 جنگجو اور 170 شامی فوجی ہلاک ہوئے۔

سیرین آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس فوجی اڈے پر 1400 فوجی تعینات تھے جن میں سے 700 فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ’دو سو کے قریب فوجیوں کو بظاہر پکڑ کر اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ صحرا کو عبور کر کے وادی العاصی پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے جو حکومتی قبضے میں ہے، جبکہ 500 کے قریب فوجی ابھی بھی مفرور ہیں۔‘

دوسری جانب شامی سرکاری ٹی وی کا کہنا تھا کہ فوجی ’دوبارہ جمع‘ ہو رہے ہیں اور اڈے سے ’کامیابی کے ساتھ فوجیوں انخلا‘ ہے۔

اسی بارے میں