برطانیہ: ’پولیس جنسی زیادتی روکنے میں ناکام‘

Image caption رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ کونسلروں کا خیال تھا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے یہ واقعات ’اکًا دکًا‘ تھے

برطانیہ کے شہر رادھرہم کی پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ وہ علاقے کے بچوں کے ساتھ کئی برسوں تک ہونے والی زیادتیوں کے خلاف کارروائی کرنے میں مکمل ناکام رہی ہے۔

یاد رہے کہ اس ہفتے کے اوائل میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے بارے میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ سنہ 1997 اور سنہ 2003 کے درمیان یارکشائر میں کم از کم 1400 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ’تمام سرکاری حکام‘ ان زیادتیوں کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

جنوبی یارکشائر پولیس کے سربراہ چیف کانسٹیبل ڈیوڈ کرامپٹن کا کہنا تھا پروفیسر ایلکس جے کی مذکورہ رپورٹ کو پڑھنا ایک دردناک تجربہ تھا۔

پروفیسر الیکس جے کی رپورٹ کے اہم نکات یہ تھے کہ سنہ 1997 اور سنہ 2003 کے درمیانی عرصے میں رادھرہم میں کم از کم 1400 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور اس دوران علاقے کی پولیس اور بچوں کی نگہداشت کے متعلقہ سرکاری ادارے اس سلسلے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔

بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کی اکثریت کے بارے میں متاثرہ بچووں کا کہنا تھا کہ وہ ایشیائی تھے جبکہ ان کا نشانہ بننے والوں کی اکثریت سفید فام بچیوں پر مشتمل تھی لیکن اس کے باوجود تفتیش کے دوران علاقے کے کونسلر رادھرہم اور اس کے نواح میں مقیم پاکستانی نژاد کمیونٹی سے جنسی زیادتی کے ان واقعات کے حوالے سے رابطہ کرنے میں ناکام رہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ کونسلروں کا خیال تھا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے یہ واقعات ’اکًا دکًا‘ تھے اور جلد ہی یہ ’مسئلہ ختم ہو جائے گا۔‘ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقامی کونسل کے کئی اہلکاروں کو خوف تھا کہ اگر انھوں نہ کہا کہ انھیں زیادتی کرنے والوں کی نسل کا پتہ ہے تو ان پر یہ الزام لگے گا کہ وہ نسل پرست ہیں اور محض ایک خاص نسل (ایشیائی) مردوں پر الزام لگا رہے ہیں۔ کچھ دیگر سرکاری اہلکاروں کا کہنا تھا کہ انھیں ان کے افسران نے کہا تھا کہ وہ یہ بات عام نہ کریں۔

پروفیسر الیکسز جے کی رپورٹ کے لیے جن سرکاری اہلکاروں سے انٹرویو لیے گئے انھیں یقین تھا کہ اگر انھوں نے بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کی نسل کے بارے میں زیادہ بات کی تو علاقے میں ’نسل پرستانہ خیالات‘ کو تقویت ملے گی اور اس سے مختلف نسلوں کے لوگوں کے درمیان تعلقات کو نقصان پہنچے گا۔

جمعے کو رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے جنوبی یارکشائر پولیس کے سربراہ چیف کانسٹیبل ڈیوڈ کرامپٹن کا مزید کہنا تھا اگرچہ اس رپورٹ کو پڑھنا ایک دردناک تجربہ تھا لیکن ’ مجھے یقین ہے کہ ہم اس رپورٹ کے نتائج کو استعمال کر کے یہ یقینی بنائیں گے ماضی کی غلطیاں دُہرائی نہ جائیں۔‘

چیف کانسٹیبل کا کہنا تھا کہ وہ پرفیسر ایلکسز جے سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تا کہ وہ ’ان کی رپررٹ کی تمام تفصیلات جان سکیں اور اس رپورٹ میں جن خدشات کا اظہار کیا گیا ہے ان کے حل کے لیے باقاعدہ اہتمام کریں۔‘

مگل کو رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد رادھرہم کے متعلقہ سرکاری اہلکاروں کو لوگوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے عہدوں سے استعفے دے دیں کیونکہ جب پاکستانی نژاد مرد علاقے کے بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا رہے تھے تو ان اہلکاروں نے کچھ نہیں کِیا۔

اس دوران رادھرہم کے ایک کئر ہوم کی ایک سابق اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جنوبی یارکشائر کے اس شہر میں کس طرح محض گیارہ سال کی عمر کی بچیوں کو ’ورغلانے کے بعد ان سے زیادتی کی گئی۔‘ سابق ملازم کا کہنا تھا کہ ان لڑکیوں کو ٹیکسیوں میں بٹھا لیا جاتا تھا اور اس دوران ان بچیوں کو جنسی زیادتی کے لیے لیجانے والے افراد ’اپنی ان حرکات کو چُھپانے‘ کی کوئی کوشش نہیں کرتے تھے۔

اسی بارے میں