’امریکی پابندیوں سے عدم اعتماد میں اضافہ ہو گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پابندیوں سے دونوں ملکوں کے درمیان عدم اعتماد میں مزید اضافہ ہو گا: حسن روحانی

ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکہ کی جانب سے لگائی جانے والی نئی مالی پابندیوں کو دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات کی روح کے منافی قرار دیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد ایرانی صدر نے سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک اخباری کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اب بھی جوہری پروگرام پر امریکہ اور دیگر پانچ عالمی طاقتوں سے بات چیت جاری رکھنے کا پابند ہے۔

امریکہ نے جمعے کو ایران کی 25 کمپنیوں اور شخصیات پر مالی پابندیاں عائد کی تھی۔

امریکی حکام کے مطابق پابندیاں ان شخصیات اور کمپنیوں پر لگائی گئی ہیں جو گذشتہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جوہری پروگرام یا دہشت گردی کی مدد کر رہے تھے۔

ایرانی صدر کے مطابق نئی پابندیاں ایک’بداخلاق اقدام ہے اور اس سے دونوں فریقوں کے درمیان عدم اعتماد مزید گہرا ہو گا۔یہ میرے خیال میں مذاکرات کی روح کی منافی اور غیرتعمیری ہیں۔‘

اس سے پہلے گذشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے جوہری توانائی کا کہنا تھا کہ ایران نے جوہری بم بنانے کے لیے درکار حد تک افزودہ تمام یورینیئم بےضرر بنا دیا ہے۔

یہ اقدام ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں طے شدہ معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت ایران کو اس کے 20 فیصد تک افزدوہ یورینیئم کو ناکارہ بنانا تھا۔

اس سے پہلے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق جاری مذاکرات میں چار ماہ کی توسیع پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ان مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے میں اس پر عائد عالمی پابندیوں کے خاتمے پر بات چیت ہو رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے تاہم مغرب اس سے اتفاق نہیں کرتا

چھ عالمی طاقتیں امریکہ، فرانس، روس، چین، جرمنی اور برطانیہ کو شبہ ہے کہ ایران جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاہم ایران ان الزامات سے انکار کرتا ہے۔

واضح رہے کہ 20 فیصد تک افزودہ یورینیئم تیزی سے جوہری بم بنانے میں استعمال ہو سکتا ہے اور ماہرین کے مطابق اس کی 200 کلوگرام مقدار ایک ایٹم بم بنانے کے لیے کافی ہے۔

عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان مذاکرات ستمبر میں دوبارہ شروع ہوں گے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ ان مذاکرات میں ایران کے تیل کی فروخت پر عائد پابندی اٹھانے کے حوالے سے کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔

اسی بارے میں