’حزب اسلامی داعش سے الحاق کر سکتی ہے‘

Image caption ہم داعش کے کچھ ارکان کے ساتھ رابطے میں بھی ہیں: کمانڈر میر واعظ

افغانستان میں طالبان کے شانہ بشانہ لڑنے والے اسلامی گروہوں سے منسلک جنگجوؤں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ دولت اسلامیہ کے ساتھ الحاق کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

ان گروہوں کے کمانڈروں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس برس افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کے بعد بھی افغان حکومت کے خلاف لڑائی جاری رکھیں گے۔

کمانڈر میر واعظ کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ (جسے وہ داعش ہی کہتے ہیں) نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک سچی اسلامی خلافت ہے اور افغانی جنگجو اس نئی طاقت کے ساتھ الحاق کی کوشش کریں گے۔

’ ہم داعش کو جانتے ہیں اور ہم داعش کے کچھ ارکان کے ساتھ رابطے میں بھی ہیں۔ ہم اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا داعش ان لوازمات کو پورا کرتی ہے یا نہیں جو کہ کسی اسلامی خلافت کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔‘

’اگر ہمیں یہ معلوم ہو گیا کہ داعش اس معیار پر پوری اترتی ہے تو ہمیں یقین ہے کہ ہمارے رہنما داعش کے ساتھ الحاق کا باقاعدہ اعلان کر دیں گے۔ داعش والے عظیم مجاہدین ہیں۔ ہم ان کے لیے دعاگو ہیں اور اگر ہمیں لگتا ہے کہ ان کے طریقہ کار میں کوئی خرابی نہیں ہے تو ہم ان میں شامل ہو جائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صوبہ بغلان کا بڑا حصہ دور افتادہ علاقوں پر مشتمل ہے جہاں تک رسائی آسان نہیں

افغان طالبان اور ان سے منسلک گروہوں کی یہ دھمکی افغان حکومت کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے کیونکہ اگر طالبان دولتِ اسلامیہ کے ساتھ الحاق کر لیتے ہیں تو دولتِ اسلامیہ کی جد وجہد کو ایک بالکل نئی جہت مل جائے گی۔

اس وقت افغانستان میں کم و بیش ایسے 20 محاذ ہیں جہاں طالبان حکومتی اہلکاروں کے خلاف لڑ رہے ہیں جن میں سے ایک محاذ صوبہ بغلان کے صدر مقام پلِ خمری کے قریب ہی واقع ہے۔

مغربی ممالک کی بے شمار مالی امداد کے باوجود مقامی سطح پر بدعنوانیوں کی وجہ سے پلِ خمری کے نواح کی سڑکوں کی حالت نہایت خستہ ہے۔

اس علاقے میں حکومت کے خلاف برسرِ پیکار گروہ کے کمانڈر میر واعظ گذشتہ برسوں میں مخلتف طالبان گروہوں کے شانہ بشانہ لڑتے رہے لیکن آج کل وہ حزبِ اسلامی سے منسلک ہیں۔

ان برسوں میں حزبِ اسلامی نے خود کو اتنی بڑی جہادی طاقت کے طور پر تسلیم کرایا ہے کہ لوگ طالبان کو بھی اس کا ہم پلہ نہیں مانتے۔

ہمیں کمانڈر میر واعظ کے ساتھ رابطہ کرنے اور پھر انھیں انٹرویو کے لیے رضامند کرنے کے لیے کئی مراحل سے گزرنا پڑا۔

آخر کار جب پلِ خمری کے نواح میں وہ ہمیں سڑک کے کنارے ملنے آئے تو ان کا کہنا تھا کہ: ’ہماری جد وجہد کا بنیادی ہدف امریکی تھے، اور خدا کا شکر ہے کہ انھیں یہاں سے بھاگنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ لیکن ہماری جنگ ختم نہیں ہوئی بلکہ ہم اس وقت تک لڑتے رہیں گے جب تک کہ ہم ایک اسلامی ریاست کا قیام نہیں کر لیتے۔‘

Image caption پلِ خمری علاقے کا مرکزی قصبہ ہے جہاں زرعی اجناس فروخت ہوتی ہیں مگر یہاں بے چینی بھی نظر آتی ہے

کمانڈر میر واعظ کا مزید کہنا تھا کہ:’ کابل کی حکومت اب بہت کمزور ہے، جیسے سنہ 1989 میں سوویت یونین کے انخلا کے بعد نجیب اللہ کی حکومت ہوا کرتی تھی۔ ان دنوں ہم صرف گوریلا کارروائیاں کر رہے ہیں جن میں خاص افراد کو نشانہ بنا کر مارنا، دھماکے اور چھُپ کر حملے کرنا شامل ہیں۔‘

’ پکی سڑکوں سے دُور کے علاقوں میں حکومت کا کوئی اختیار نہیں ہے اور حکومت کے لوگ سکیورٹی اہلکاروں کی فوج کے بغیر کسی گاؤں میں داخل نہیں ہو سکتے۔‘

میر واعظ کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی ممالک کے فوجیوں کے انخلا کے بعد طالبان اور ان کے اتحادی افغانستان کی مرکزی حکومت کے ساتھ کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں کریں گے اور وہ ایک اسلامی ریاست سے کم کسی بھی چیز پر رضامند نہیں ہوں گے۔

لیکن کابل میں مقیم سیاست دان اور انٹیلیجنس کے ماہر امراللہ شاہ اس بات کو نہیں مانتے کہ طالبان یا ان کے دیگر انتہاپسند گروہ افغانستان میں حکومت پر قابض ہو سکتے ہیں۔

امراللہ شاہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ برسوں میں افغانستان میں سیاست اور معاشرے میں اتنی بڑی تبدیلیاں آ چکی ہیں کہ اب اس بات کے امکانات نہیں رہے ہیں۔

تاہم اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ طالبان افغانستان کی مرکزی حکومت کو شدید مشکلات سے دوچار کر سکتے ہیں اور اگر وہ دولتِ اسلامیہ کے ساتھ الحاق کر لیتے ہیں تو کابل حکومت کے لیے ان سے نمٹنا اتنا آسان بھی نہیں ہوگا۔

اپنے طویل پہاڑی سلسلوں اور دور دور تک پھیلے ہوئے صحراؤں کی وجہ سے افغانستان ہمیشہ سے باقی دنیا سے بالکل کٹا رہا ہے، اور یہ پہلا موقع ہے کہ اس ملک کے مزاحمت کار ایک ایسے گروہ کا ساتھ دینے کا سوچ رہے ہیں جو افغان سرحدوں سے بہت دور بیٹھا ہوا ہے۔

اسی بارے میں