کینیا:گھر بیٹھے تنخواہ لینے والے سرکاری ملازموں کی کھوج

Image caption اس مہم کے تحت لوگوں کی انگلیوں کے نشانات لیے جاتے ہیں اور تعلیمی اسناد کی تصدیق کی جاتی ہے

کینیا نے تمام سرکاری ملازموں کی بائیومیٹرک رجسٹریشن شروع کر دی ہے۔ اس مہم کا مقصد سرکاری اداروں سے ’گوسٹ ورکرز‘ (جعلی ملازمین) یا بغیر کام کیے تنخواہیں وصول کرنے والے لوگوں کو نکالنا کرنا ہے۔

ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ملازم جو اگلے دو ہفتوں تک اپنے آپ کو رجسٹر نہیں کروائیں گے انھیں تنخواہیں نہیں دی جائیں گی۔

حکومت کا خیال ہے کہ ہزاروں لوگ کام کیے بغیر سرکاری خزانے سے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔

سب سے پہلے صدر اوہورو کینیاٹا نے اپنی رجسٹریشن کروائی، جنھوں نے ملک سے بدعنوانی ختم کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

انھوں نے ساحلی شہر ممباسا میں سرکاری ملازموں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’یہ آپ کے بہترین مفاد میں ہے کہ آپ اپنے آپ کو رجسٹر کروا لیں تاکہ آپ کو جعلی ملازم نہ سمجھا جائے۔‘

اس سے قبل اس سال ہونے والے آڈٹ میں معلوم ہوا تھا کہ ہر ماہ کم از کم دس لاکھ ڈالر انھی جعلی ملازموں کے کھاتے میں چلے جاتے ہیں۔

ایک سرکاری بیان کے تحت تمام سرکاری ملازموں پر لازم کر دیا گیا ہے کہ وہ اگلے دو ہفتوں کے اندر اندر شناختی مراکز پر جا کر اپنی بائیومیٹرک شناخت کروائیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی نے بغیر ٹھوس وجہ کے ایسا نہ کیا تو اسے نوکری سے فارغ کر دیا جائے گا۔

نیروبی کے ایک مرکز میں بی بی سی کے نامہ نگار پال نابسوا بھی موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ حکام شناختی تفصیلات حاصل کر رہے ہیں، انگلیوں کے نشانات لے رہے ہیں اور ملازمین کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کر رہے ہیں۔ اس کے بعد ان ملازموں کو ایک پرچی جاری کر دی جاتی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ وہ اصل ملازم ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس مہم پر ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ نیروبی کونسل کے ایک ملازم ہنری اوکیلو نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ وقت کا ضیاع ہے۔‘

اسی بارے میں