’روس نیٹو کے بارے میں حکمت عملی بدل رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یوکرینی فوجیں ملک کے مشرقی علاقے میں روس نواز باغیوں کے خلاف لڑائی میں مصروف ہیں

روس کے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے کہا ہے کہ یوکرین کے تنازعے اور مشرقی یورپ میں نیٹو کی موجودگی کے تناظر میں فوج کے حوالے سے روس کا انداز فکر تبدیل ہونے جا رہا ہے۔

کریملن سے منسلک مشیر میخائل پوپوف کا کہنا ہے کہ امریکہ اور نیٹو کے ساتھ روس کے بگڑتے ہوئے تعلقات کی جھلک روس کی نئی فوجی حکمت عملی میں نظر آ جائے گی۔

واضح رہے کہ پیر کو نیٹو نے کہا تھا کہ وہ اپنے رکن ممالک کے دفاع کی غرض سے مشرقی یورپ میں اپنی موجودگی کو تقویت دینے جا رہا ہے۔

یوکرینی فوجیں ملک کے مشرقی علاقے میں روس نواز باغیوں کے خلاف لڑائی میں مصروف ہیں اور اس برس اپریل میں شروع ہونے والی اس لڑائی میں اب تک تقریباً 2,600 افراد مارے جا چکے ہیں۔

پیر کو ہی یوکرین کے وزیر دفاع نے الزام لگایا تھا کہ روس ایک ’بہت بڑی جنگ‘ مسلط کر رہا ہے جس میں ہزارہا لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں۔ روس اس الزام کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین میں باغیوں کی عملی مدد نہیں کر رہا ہے۔

تناؤ میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نیٹو کی نئی فوج میں رکن ممالک کے فوجی باری باری خدمات سرانجام دیں گے

روس کی قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری میخائل پوپوف نے روسی خبر رساں ادارے آر آئی اے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو میں پھیلاؤ اور اس جیسے دوسرے اقدامات کی وجہ سے ’نیٹو ممالک کے فوجی ساز وسامان اور سہولیات‘ میں اضافہ ہو رہا ہے اور نیٹو روس کی سرحدوں کے قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روس کو جن ’بیرونی خطرات کا سامنا ہے ان میں نیٹو کے اقدامات سرفہرست ہیں۔‘

میخائل پوپوف کا کہنا تھا کہ ’نیٹو کے مستقبل کے منصوبوں سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ امریکہ اور نیٹو کے رہنما روس کے ساتھ تناؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔‘

میخائل پوپوف نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ روس کے نئے فوجی انداز فکر اور حمکت عملی کی تفصیلات کیا ہیں۔

یاد رہے کہ پیر کو نیٹو نے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرقی یورپ میں اپنے رکن ممالک کو روس کی ممکنہ چڑھائی سے بچانے کی غرض سے کئی ہزار فوجیوں پر مشتمل سبک رفتار دستے تشکیل دے گا۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اس نئی فوج میں رکن ممالک کے فوجی باری باری خدمات سرانجام دیں گے اور اسے 48 گھنٹے کے اندر اندر کسی بھی جگہ تعینات کیا جا سکے گا۔

سیکریٹری جنرل نے مزید بتایا تھا کہ اس مقصد کے لیے فوجی ساز وسامان اور دیگر اشیا مشرقی یورپی ممالک میں پہلے سے ہی بھجوا دی جائیں گی تا کہ اس نئی فورس میں شامل فوجی ’ہلکے پھلکے سامان کے ساتھ‘ سفر کر کے مذکورہ مقام پر پہنچ جائیں اور ضرورت پڑنے پر ’کاری ضرب لگائیں۔‘

نیٹو کے نئے منصوبے اس ہفتے ویلز میں رکن ممالک کے سربراہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کر دیے جائیں گے۔

اسی بارے میں