بڑھتی ہوئی جنگی حدت

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption برطانوی فضائیہ کے ٹائیفون لڑاکا طیارے نیٹو کی فضائی نگرانی کا حصہ ہیں

یوکرین کے تنازعے نے نیٹو اور روس کے درمیان تعلقات اتنے خراب کر دیے ہیں کہ اس بات کے خدشات بڑھ گئے ہیں کہ شاید سرد جنگ کی بدگمانیاں اور مخاصمتیں لوٹ آئی ہیں۔

اگرچہ دونوں فریقوں کے درمیان افغانستان، سمندروں میں قذاقی کے خلاف کوششوں اور مختلف ممالک میں مشترکہ قیام امن کے دوران تعاون بھی دیکھنے میں آیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ روس اور نیٹو کے تعلقات کئی برسوں سے خراب ہوتے چلے آ رہے ہیں۔

نیٹو کا روس پر الزام ہے کہ وہ مشرقی یوکرین میں باغیوں کی مدد کے لیے اپنے فوجی اور بھاری اسلحہ بھیج رہا ہے۔

کچھ لوگ تو اسے اسلحے کے ذریعے چڑھائی کا نام بھی دے رہے ہیں۔ روس اس الزام سے نہ صرف انکار کرتا ہے بلکہ اس کا کہنا ہے طاقت کا استعمال دراصل یوکرین کی مغرب پرست حکومت کی جانب سے ہو رہا ہے۔

ان الزام تراشیوں کے علاوہ روس اور نیٹو کے درمیان اس سرد مہری کی وجوہات کیا ہیں؟

مشرقی جانب پھیلاؤ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جولائی میں نیٹو کی مشقوں میں بلغاریہ نے بھی حصہ لیا تھا

اشتراکیت کے اختتام پر مشرقی اور مرکزی یورپ کے ممالک کے درمیان نیٹو میں شمولیت کی دوڑ شروع ہو گئی جس کا مقصد مستقبل میں روس کی جانب سے کسی بھی ممکنہ چڑہائی کے خلاف اقدامات اٹھانا تھا۔

اس کے علاوہ نیٹو میں شمولیت کا یہ مطلب بھی لیا گیا کہ رکن ممالک مغربی اقدار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

دیوار برلن کے گرنے کے تقریباً دس برس بعد سنہ 1999 میں نیٹو نے وارسا پیکٹ کے تین رکن ممالک کو بھی تنظیم میں شامل کر لیا جن میں چیک ریپبلک، ہنگری اور پولینڈ شامل تھے۔

سابقہ سویت بلاک کے چند مزید ریاستوں نے بھی سنہ 2004 میں نیٹو میں شمولیت اختیار کر لی جن میں ایستونیا، لیٹویا اور لیتھوینیا کی بالٹک ریاستیں اور بلغاریہ، ربمانیہ اور سلوواکیا شامل تھیں۔

روس خاص طور پر نیٹو کے بالٹک ریاستوں کی جانب پھیلاؤ پر بہت برہم ہوا۔

نیٹو کا پھیلاؤ جاری ہے اور تنظیم کے اس ہفتے ویلز میں ہونے والے اجلاس میں فِن لینڈ بھی نیٹو کا میزبان رکن بن جائے گا۔ یاد رہے کہ فن لینڈ وہ سب سے بڑا ملک ہے جس کی روس کے ساتھ تمام ممالک کی سرحدوں سے زیادہ طویل ہے۔

سنہ 2008 میں نیٹو نے جارجیا کی نیٹو میں شمولیت کا عندیہ دے دیا۔

روس کے خیال میں جارجیا کو شمولیت کی پیشکش کر کے نیٹو نے خطے میں روس کے اثر و رسوخ کو براہ راست نشانہ بنایا تھا اور پھر بعد میں یوکرین کے معاملے پر بھی روس کے یہی جذبات دیکھنے میں آئے۔

گذشتہ ماہ یوکرین کے وزیراعظم نہ کہا تھا کہ وہ اپنی پارلیمان سے یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کی راہ ہموار کرنے کی درخواست کریں گے۔ یاد رہے کہ یوکرین کے سابق صدر وکٹر ینکووچ روس کے دوست تھے اورانھوں نے اپنے عہد میں ایسا نہیں ہونے دیا تھا۔ اس سال فروری میں شدید حکومت مخالف مظاہروں کے بعد صدر وکٹر کو اقتدار سے الگ کر دیا گیا تھا۔

دفاعی میزائل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2008 میں روسی فوجی نے جارجیا کی فوجوں کو بہت پیچھے دھکیل دیا تھا

روس امریکہ کی سربراہی میں جاری اینٹی بلسٹک میزائلوں کے منصوبے کو بھی اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

نیٹو کا موقف ہے کہ میزائلوں کو فضا میں دبوچنے والی مذکورہ شیلڈ یا دیوار محض دفاعی مقاصد کے لیے ہو گی جس سے روس کو کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ نیٹو یہ شیلڈ کسی بھی’عسکریت پسند ریاست‘ کی جانب سے میزائلوں کے حملے کو روکنے کے لیے تیار کر رہا ہے۔ مغرب اس سلسلے میں ایران اور جنوبی کوریا کو خطرہ سمجھتا ہے۔

روس میزائل کے اس نظام کو بنانے میں برار کی شراکت داری چاہتا تھا لیکن اس تجویز کو خاطر میں نہ لایا گیا نیٹو نے اس نظام کو اب رومانیہ، چیک ریپبلک اور پولینڈ میں بنانے کا کام شروع کر دیا ہے۔

نیٹو کے اس منصوبے کے جواب میں روس نے دسمبر 2013 میں اپنے اسکندر میزائلوں کا ایک نظام لگا لیا ہے۔

جارجیا میں تنازع

اگست 2008 میں جارجیا میں مختصر جنگ نے روس اور نیٹو کے تعلقات مزید خراب کر دیے تھے۔

اس جنگ میں روس نے جارجیا کے باغیوں کی مدد کی تھی اور علیحدگی پسندوں کی جانب سے لڑتے ہوئے جارجیا کی فوج کو تباہ و برباد کر دیا تھا۔

ایک وقت ایسا بھی آیا کہ روس نے جارجیا میں اتنے زیادہ فوجی داخل کر دیے کہ وہ دارالحکومت تبلیسی تک جا پہنچے تھے۔

کوسوو میں تنازع

اس تنازعے میں روس نے اپنے تاریخی اتحادی سربیا کا کھلے عام ساتھ دیا تھا اور سنہ 1999 میں اتحادی فوجوں کی بڑی بمباری کے بعد روس نے نیٹو کے ساتھ تعاون کچھ عرصے کے لیے سرد خانے میں ڈال دیا تھا۔

معاہدے پر اختلافات

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سنہ 1999 میں کوسوو کے امن فوجیوں میں بھی برطانویوں کی بڑی تعداد شامل تھی

اسی طرح سنہ 2007 میں بھی روس اور نیٹو کے درمیان اختلافات اس وقت ایک مرتبہ پھر سامنے آ گئے تھے جب روس نے یورپ میں عمومی فوجوں کی موجودگی کے معاہدے (سی ایف ای) پر بھی عمل درآمد چھوڑ دیا تھا۔

اس معاہدے کے تحت وارسا پیکٹ اور نیٹو ممالک کے ارکان کچھ ممالک میں اپنی اپنی فوجی موجودگی کو محدود رکھنے کے پابند تھے۔ تاہم کچھ ممالک نے اس معاہدے کی تجدید پر رضامندی سے انکار کر دیا تھا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت تک معاہدے کی توسیع نہیں کریں گے جب تک روس جارجیا اور مالدووا سے اپنے تمام فوجی واپس نہیں بلا لیتا۔

اب نیٹو نے اعلان کیا ہے کہ وہ روس کی سرحد کے قریب قریب مشرقی یورپ میں کئی ہزار فوجی تعینات کرنے جا رہا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ نیٹو کے اس اقدام سے روس اور نیٹو کے تعلقات ایک مرتبہ پھر بگڑنے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں