یوکرین اور روس کے درمیان ’جنگ بندی پر اتفاق‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یوکرین میں جاری تنازعے کی وجہ سے روس اور نیٹو ممالک میں کشیدگی عروج پر ہے

یوکرین کے صدر پیترو پوروشنکو نے کہا ہے کہ انھوں نے روسی صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ فون پر ’جنگ بندی کے عمل‘ پر اتفاق کر لیا ہے۔

ان کے دفتر نے ابتدا میں ’مستقل جنگ بندی‘ کی خبر دی تھی لیکن بعد میں اپنا بیان تبدیل کر لیا۔

تاہم کریملن نے کہا ہے کہ صدر پوتن نے جنگ بندی پر اتفاق نہیں کیا کیونکہ روس اس تنازعے میں فریق نہیں ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے ایستونیا کا دورہ کر کے بلقان کے نیٹو کے رکن ممالک سے یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔ وہ روس اور یوکرین کے بحران پر بلقان کے خطے کے رہنماؤں سے بات چیت کے لیے ایستونیا میں ہیں۔

وہ دارالحکومت تالن میں ایستونیا، لیتوویا، اور لتھوانیا کے صدور سے ملاقات کریں گے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ تینوں ملک، جو 2004 میں نیٹو میں شامل ہوئے تھے، یوکرین میں روسی مداخلت کی وجہ سے تشویش کا شکار ہیں۔

اس کے بعد صدر اوباما نیٹو کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے، جس میں ایک ایسی تیز رفتار فوج کے قیام کے منصوبے کی حمایت کی جائے گی جو 48 گھنٹوں کے اندر اندر تعینات کی جا سکے۔

نیٹو نے حال ہی میں مشرقی یورپی ملکوں کو ممکنہ روسی جارحیت سے بچانے کے لیے اس فوج کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

روس نے اس پر ردِ عمل میں کہا تھا کہ وہ ’روسی سرحدوں کے قریب نیٹو کے انفراسٹرکچر‘ میں ہونے والی تبدیلیوں کے پیشِ نظر اپنے فوجی نظریے میں تبدیلی لائے گا۔

تیز رفتار فوج اور دوسرے سکیورٹی اقدامات جمعرات سے ویلز میں ہونے والے نیٹو کے سربراہی اجلاس میں زیرِ بحث آئیں گے۔

صدر اوباما بدھ کی صبح تالن پہنچے۔ وہ بعد ازاں ایستونیا کے صدر توماس ہینڈرک اِلویس، لتھوینیا کے صدر ڈلیا گریباؤسکائیتے اور لیٹویا کے آندریس بیرزنش سے ملاقات کریں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار گیون ہیوٹ کہتے ہیں کہ تین سابق سوویت ریاستیں روسی صدر پوتن کے اس اصرار پر تشویش کا شکار ہیں کہ روس کو روسی بولنے والے افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے دوسرے ملکوں میں مداخلت کا حق حاصل ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر اوباما اپنے ایستونیا کے دورے میں یہ واضح کریں گے کہ ’بڑے ملکوں کے لیے یہ بات ٹھیک نہیں ہے کہ وہ اپنے چھوٹے ہمسائیوں کی سرحدی سالمیت کی کھلم کھلا خلاف ورزی کریں۔‘

روس نواز باغی اپریل سے یوکرین میں سرکاری فوج سے برسرِ پیکار ہیں۔ یوکرین کے مشرق میں واقع دونیتسک اور لوہانسک کے علاقوں میں انھوں نے آزادی کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس سے قبل روس نے یوکرین کے علاقے کرائمیا کو ضم کر لیا تھا۔

اب تک یوکرین میں ہونے والے تشدد کے بعد سے 2600 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جب کہ ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں