’اقصیٰ کی وجہ سے زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی‘

Image caption اقصیٰ گذشتہ برس نومبر میں ترکی کے راستے شام کے شہر حلب پہنچی تھیں

برطانیہ سے شام جا کر وہاں دولتِ اسلامیہ کے ایک جنگجو سے شادی کرنے والی بیس سالہ لڑکی اقصیٰ محمود کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی نے انھیں دھوکہ دیا ہے۔

سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو سے تعلق رکھنے والے مظفر محمود اور ان کی اہلیہ خالدہ محمود نے کہا ہے کہ یہ ان کے لیے ایک خوفناک خبر تھی کہ ان کی بیٹی نے یہ قدم اٹھایا ہے۔

ان کی جانب سے یہ بیان ٹوئٹر پر اقصیٰ محمود سے منسوب اس پیغام کے بعد آیا ہے جس میں اقصیٰ نے برطانوی عوام سے وولچ میں برطانوی فوجی کے قتل جیسی دہشت گردی کی کارروائیاں دہرانے کو کہا ہے۔

مظفر اور ان کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیٹی سے بہت محبت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ گھر لوٹ آئے۔

بیان میں اس جوڑے کا کہنا تھا کہ ’ اقصیٰ، ہم اب بھی تم سے پیار کرتے ہیں لیکن اب چونکہ تم نے یہ قدم اٹھا کر ہمیں، ہمارے معاشرے اور سکاٹ لینڈ کے عوام کو دھوکہ دیا ہے تو ہمیں تم پر تمہارے خاندان اور تمہارے بہن بھائیوں کو فوقیت دینا ہوگی۔‘

بیان میں اقصیٰ کو مخاطب کر کے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’تم نے ہمارا دل توڑ دیا ہے اور ہماری زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی ہے۔‘

اقصیٰ نے والدین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ’ہماری بیٹی جسے زندگی میں تمام مواقع اور آزادی میسر تھی، سخت گیر خیالات کی حامل بن سکتی ہے تو یہ کسی بھی خاندان میں ہو سکتا ہے۔‘

Image caption خالدہ محمود کے مطابق اب کا خاندان صرف افسوس کرنے اور شرمندہ ہونے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا

اطلاعات کے مطابق اقصیٰ محمود نے ام اللیث نامی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے دہشتگردی کی کارروائیوں کی ترویج کی اور یہ اکاؤنٹ اب بند ہو چکا ہے۔

اقصیٰ کو سکاٹ لینڈ میں لاپتہ قرار دیا گیا تھااور وہ گذشتہ برس نومبر میں ترکی کے راستے شام کے شہر حلب پہنچی تھیں۔

شام جانے سے قبل وہ مقامی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر چکی تھیں اور ان کے والدین کے مطابق وہ ’معاشرے کا حصہ تھیں۔‘

اپنے بیان میں جو کہ ان کے وکیل نے گلاسگو میں ایک پریس کانفرنس میں پڑھ کر سنایا مظفر اور خالدہ محمود نے کہا ہے کہ ’اسے ممکنہ طور پر لگ رہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جہادی اس کا نیا خاندان ہیں لیکن ایسا کچھ نہیں ہے اور وہ اسے صرف استعمال کر رہے ہیں۔‘

ان دونوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’ہم اس (اقصیٰ) کے بارے میں کوئی توجیح نہیں دینا چاہتے اور اس کے دولتِ اسلامیہ میں کردار اور حالیہ بیانات کی کھل کر مذمت کرتے ہیں۔‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’لیکن وہ اب بھی ہماری بیٹی ہے اور ہمیں اس سے پیار ہے اور ہم اس کی زندگی کے بارے میں فکرمند ہیں اور اس پر زور دیتے ہیں کہ وہ گھر لوٹ آئے کہ ابھی وہ ایسا کر سکتی ہے۔‘

Image caption 20 سالہ اقصیٰ کے والد مظفر محمود کا کہنا ہے کہ ان کی تربیت محبت اور شفقت سے ہوئی

اقصیٰ شام پہنچنے کے بعد اپنے والدین سے رابطے میں تھی اور یہ رابطہ منگل کو سوشل میڈیا پر اس کے بیان اور دولتِ اسلامیہ سے ان کے تعلق کی خبریں سامنے آنے تک برقرار تھا۔

تاہم اب مظفر محمود کا کہنا ہے کہ اب بظاہر ان کے اپنی بیٹی سے تمام روابط ٹوٹ چکے ہیں۔

اقصیٰ کے والدین کے مطابق ان کی نوجوان بیٹی کے سخت گیر خیالات کا ذمہ دار نہ تو اس کے اہلِ خانہ اور نہ ہی کسی مبلغ کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ ’اقصیٰ بہت سے نوجوانوں کی طرح مشرقِ وسطیٰ میں انسانی جانوں کے ضیاع پر مشتعل اور جھنجھلاہٹ کا شکار تھی۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ہم فکرمند ہیں کہ اس ملک میں خوف کا ماحول بچوں کو اپنے خیالات اپنے خاندان اور دوستوں کو بتانے سے روک رہا ہے اور یہ معاشرے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔‘

مظفر محمود اور خالدہ محمود نے کہا کہ آنے والے دنوں میں وہ اپنی بیٹی کے زندہ ہونے کی خبر کے منتظر رہیں گے لیکن ’آج جب ہم اپنے آنسو روک رہے ہیں ہمیں احساس ہو رہا ہے کہ ہم اپنی بیٹی کو کھو چکے ہیں۔‘

اسی بارے میں