’شادی کے لیے ڈرائیونگ لائسنس لازمی‘

Image caption سعودی حکام کا کہنا ہے کہ طلاق کی شرح حالیہ برسوں میں تیزی سے بڑھی ہے

سعودی عرب کے حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ملک میں شادی کرنے کے لیے مرد حضرات پر ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کی شرط لاگو کر دی جائے۔

اس اقدام کا مقصد بظاہر ملک میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح کو روکنا ہے۔

سعودی عرب میں طلاق کا بڑھتا رجحان

عرب نیوز کے مطابق سعودی شاہ کی وزارتِ انصاف کے زیرِ غور منصوبے میں شادی کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مردوں کے پاس ڈرائیونگ لائسنس کا ہونا ضروری ہے۔

نہ صرف یہ بلکہ شادی کے متمنی جوڑوں کے لیے رشتہ ازدواج میں بندھنے سے قبل ’شادی کے لیے لازمی تربیت‘ لینا بھی ضروری ہوگا۔

خاندانی امور کے مشیر عبدالسلام الثاقبی کا کہنا ہے کہ یہ نیا منصوبہ اس سے پہلے حکومت کی جانب سے جوڑوں کے طبی معائنہ کروانے کے منصوبے کی ناکامی کے بعد تیار کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طبی نتائج اور طلاق یا علیحدگی کے بیچ کوئی تعلق نہیں نکلا۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ طلاق کی شرح حالیہ برسوں میں تیزی سے بڑھی ہے اور وہ اس عمل کے ریاست پر ہونے والے اثرات سے پریشان ہیں۔

سعودی میڈیا میں بتائے گئے حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر طلاقوں کی وجہ مردوں کی جانب سے شادی کے بعد عورتوں کو ملازمت جاری رکھنے کی اجازت نہ دینا ہے یا پھر شوہروں کی جانب سے بیویوں کی ساری تنخواہ پر قبضہ کر لینا ہے۔

اسی بارے میں