نیٹو اتحاد دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہے: اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ کو امید ہے کہ اتحادی نیویارک میں آئندہ ماہ ہونے والے اقوامِ متحدہ کے جنرل باڈی اجلاس سے پہلے، دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ایک مربوط منصوبہ تیار کر لیں گے

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ نیٹو ممالک کا ایک اتحاد امریکہ کے ساتھ مل کرعراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف عسکری کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔

ویلز میں نیٹو کے سربراہی اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران انھوں نے کہا کہ دولتِ اسلامیہ سے پیدا ہونے والے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک ’مرکزی اتحاد‘ بنا لیا گیا ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل نے کہا کہ اس اتحاد میں امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ اور ترکی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ دولتِ اسلامیہ نے شام اور عراق میں بہت بڑے علاقوں پر قبضہ کیا ہوا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما اور سیکریٹری خارجہ جان کیری نے نیٹو کے سربراہی اجلاس کے موقع پر، دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی کے لیے اتحاد میں مزید ممالک کو شامل ہونے کا کہا ہے لیکن انھوں نےدولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں زمینی فوج کے استعمال کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔

جان کیری نے نیٹو کے اجلاس کو بتایا کہ ’ہمیں ان (دولتِ اسلامیہ) پر اسطرح حملہ کرنا چاہیے کہ انھیں علاقوں کو اپنے زیر کنٹرول لانے سے روکا جائے اور ہمیں عراقی اور خطے میں ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تیار دیگر ممالک کی سکیورٹی فورسز کی ہمت افزائی کرنی چاہیے۔‘

اجلاس کے اختتام پر صدر اوباما نے کہا کہ ایک ’مرکزی اتحاد‘ عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فوجی، انٹیلی جنس، قانون نافذ کرنے اور سفارتی ذرائع سے کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔

حال ہی میں امریکی صحافیوں جیمز فولی اور سٹیون سوٹلوف کی سر قلم کرنے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد دولتِ اسلامیہ سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششیں تیز کر دی گئیں ہیں۔

امریکہ کو امید ہے کہ اتحادی نیویارک میں آئندہ ماہ ہونے والے اقوامِ متحدہ کے جنرل باڈی اجلاس سے پہلے، دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ایک مربوط منصوبہ تیار کر لیں گے۔

اسی بارے میں