یوکرین میں باغیوں اور حکومت کے درمیان جنگ بندی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیٹو کے سربراہی اجلاس کے موقع پر روس کے مخالف مظاہرے ہوئے ہیں

یوکرین کےصدر پیٹرو پروشنکو نے کہا ہے کہ یوکرین کی حکومت اور روس نواز باغیوں کے درمیان یوکرین کے شہر منسک میں ہونے والے مذاکرات میں جنگ بندی کے بارے میں ابتدائی مفاہمت ہو گئی ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ جنگ بندی پر عملدرآمد گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق دن کے تین بجے سے عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔

جنگ بندی کے اعلان کے وقت بھی ملک کے مشرقی حصے سے حکومتی فوج اور روس نواز باغیوں میں جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔

دریں اثنا روس کے مخالف مغربی ممالک روس کے خلاف مزید اقتصادی پابندی عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

مغربی ممالک روس پر یوکرین کے مشرقی حصوں میں اسلحہ اور فوجی بھیجنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ جبکہ ماسکو یوکرین میں مداخلت کرنے کی تردید کرتا ہے۔

بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں ہونے والے مذاکرات میں یوکرین کے سابق صدر لیونڈ کچما، یورکرین میں روسی سفیر میخائل زرابوف اور دونستک اور لونسک کے خود ساختہ خود مختار خطے کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

قبل ازیں روس کے صدر ولادی میر پوتن نے ایک سات نکاتی امن منصوبہ تجویز کیا تھا۔

اس امن منصوبے میں فریقین کی جانب سے جارحانہ کارروائیوں کو بند کرنے، جنگ بندی کی بین الاقوامی نگرانی اور غیر مشروط طور پر قیدیوں کے تبادلہ اور امدادی ادارووں کو محفوظ راستہ فراہم کیے جانے کی تجاویز شامل تھیں۔

اسی بارے میں