افغانستان: ریپ کے سات مجرموں کو موت کی سزا

Image caption عوامی حلقوں میں اس واردات پر شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا اور اس کے خلاف لوگوں نے سڑکوں پر آ کر احتجاج بھی کیا

افغانستان میں گینگ ریپ کی ایک واردات میں ملوث سات افراد کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

ملک میں اجتماعی ریپ کی اس بہیمانہ واردات کے بعد شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

اس واردات میں ملوث افراد پر گزشتہ ماہ اگست میں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے بعد کابل لوٹنے والی چار خواتین کو اغواء کرکے ہوس کا نشانہ بنانے کا الزام ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی نے بھی ملزماں کو قرار واقعی سزا دینے پر زور دیا تھا۔

سماجی کارکناں کے مطابق افغان معاشرے میں خواتین کے خلاف جرائم عام ہیں لیکن اس واقعے پر جس قسم کا رد عمل سامنے آیا ہے وہ اس سے قبل دیکھنے میں نہیں آیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مقدمے کی سماعت صرف چند گھنٹے جاری رہی اور موت کی سزا مسلح ڈکتی کے جرم میں سنائی گئی۔

زیادتی کا شکار ہونے والی ایک خاتون نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنے خاندان والوں کے ہمراہ شادی کی تقریب میں شرکت کی غرض سے پغمان گئی تھیں کہ واپسی پر بندوق کی نوک پر انھیں اغوا کر لیا گیا اور ان کے تمام زیورات اتروا لیے گئے۔ اس کے علاوہ ان کے ساتھ جو کچھ کیا گیا اس کی تفصیل سے عدالت بخوبی آگاہ ہے۔

کابل پولیس کے سربراہ ظاہر ظاہر نے بتایا کہ ملزمان کو تین ستمبر کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور گرفتاری کے دو گھنٹے بعد ہی انھوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا تھا۔

اسی بارے میں