امریکہ: امیگریشن قوانین میں ترمیم مؤخر

تصویر کے کاپی رائٹ AP

صدر براک اوباما نے امریکہ آنے والے غیر ملکیوں سے متعلق نئے قوانین کی حمایت کا ارادہ فی الحال ترک کر دیا ہے۔

صدر اوباما نے جون میں وعدہ کیا تھا کہ وہ اس سلسلے میں اپنے خصوصی اختیارات استعمال کریں گے۔ صدر کے اس عندیے کے بعد توقع کی جاری تھی کہ امریکی ویزا کے قوانین میں تبدیلی ہو جائے گی، امریکی سرحدوں پر سکیورٹی کو مضبوط کیا جائے گا اور یوں ان ایک کروڑ دس لاکھ تارکین وطن کے لیے امریکہ میں مستقل رہائش کا راستہ بھی ہموار ہو جائے گا جو یہاں پر غیرقانونی طور پر موجود ہیں۔

لیکن اب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ان متوقع قوانین پر پیش رفت اس برس نومبر میں ہونے والے نصف مدتی انتخابات تک روک دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ ہر برس ہزارہا افراد میکسیکو سے امریکہ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان تارکین کی ایک بڑی ان بچوں پر مشتمل ہے جو کسی بالغ کے بغیر ہی امریکہ پہنچ جاتے ہیں۔ صدر اوباما اس صورت حال کو ایک ’انسانی بحران‘ کا نام دے چکے ہیں۔

صدر براک اوباما گذشتہ کئی برسوں سے امریکہ کے امیگریشن قوانین میں بہتری لانے کے وعدے کر رہے ہیں، لیکن کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کے اراکین کی مخالفت کی وجہ سے صدر کو اس سلسلے میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ہو سکی ہے۔

سنیچر کو وائٹ ہاؤس کے سینیئر اہلکاروں کا کہنا تھا کہ چونکہ ریپبلکن پارٹی نے اس مسئلے کو ’بہت بڑا سیاسی مسئلہ‘ بنا دیا ہے اس لیے امیگریشن قوانین کی دور رس بہتری کے لیے یہ اچھا ہوگا کہ قوانین میں ترامیم انتخابات سے پہلے نہ لائی جائیں۔ تاہم افسران کا کہنا تھا کہ متوقع ترامیم کو اس سال کے ختم ہونے تک کانگریس سے جیسے تیسے منظور کرا لیا جائے گا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کی جانب سے قوانین میں ترمیم کو مؤخر کرنے سے ان کی پارٹی کے ان انتخابی امیدواروں کو فائدہ پہنچے گا جنھیں اپنے حلقوں میں کانٹے دار مقابلے کا سامنا ہے۔

دوسری جانب تاریکن وطن کی ترجمانی کرنے والی تنظیم ’یونائیٹڈ وی ڈریم‘ نے قوانین میں تاخیر کو ’لاطینی امریکہ سے آئے ہوئے اور دیگر تارکین وطن کے منہ پر تمانچے‘ سے تعبیر کیا ہے۔