سکاٹ لینڈ آخر آزادی کیوں چاہتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سکاٹ لینڈ کی آزادی کے ہیرو ولیم ویلس کی یاد میں بنایا گیا ویلس مینار

18 سمتبر کو سکاٹ لینڈ کے ووٹر ریفرینڈم کے ذریعے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ برطانیہ کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں یا الگ ہونا چاہتے ہیں۔

خودمختاری کی حامی سکاٹش نیشنل پارٹی سنہ 2011 کے پارلیمانی انتخابات میں کامیاب ہوئی تھی اور واضح برتری کے باعث وہ آج اس قابل ہے کہ وہ یہ ریفرینڈم کروا سکے۔

ریفرینڈم کے روز سکاٹ لینڈ کے لوگ پولنگ سٹیشنوں پر جا کر اس سوال کا ہاں یا نہ میں جواب دیں گے کہ آیا سکاٹ لینڈ کو آزاد ہونا چاہیے یا نہیں۔

ریفرینڈم کی مخالفت اور حمایت میں دلائل

منسٹر ایلیکس سیمنڈ کی قیادت میں سکاٹش حکومت کا موقف ہے کہ 300 سال سے جاری یہ اتحاد اب بے مقصد ہے اور آزاد ہونے کے بعد سکاٹ لینڈ اپنی تیل کی دولت کی بدولت دنیا کے امیر ترین ممالک میں شامل ہو جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سکاٹ لینڈ اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرے۔ ان کے بقول سکاٹ لینڈ کو لندن میں قائم حکومت کی زنجیروں سے آزاد ہونا ہے۔

اس بحث کی مخالف وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کی قیادت والی برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ متحدہ برطانیہ دنیا کا کامیاب ترین معاشی اور سیاسی مملکتوں میں سے ایک ہے۔

بڑے مسائل کیا ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مسٹر کیمرون کا کہنا ہے کہ شمالی سمندر ہمیشہ سے برطانوی ترقی کا ذریعہ رہے ہیں لیکن اب یہاں سے تیل اور گیس کا حصول پہلے سے مشکل ہو گیا ہے

حالیہ مہینوں میں دو بڑے مسائل کرنسی اور تیل کے روپ میں سامنے آئے ہیں۔

جہاں تک تیل کی بات ہے تو شمالی سمندر میں تیل اور گیس کے ذخائر سکاٹش حکومت کی جانب سے آزادی کے مطالبے کی بڑی وجہ ہیں۔

ایلیکس سیمنڈ کا کہنا ہے کہ تیل کے زرِ مبادلہ کی سالانہ ایک ارب پاؤنڈ بچت کرنے سے ایک نسل کے بعد یہی ذخیرہ 30 ارب پاؤنڈ کا ہو جائے گا۔

دوسری جانب مسٹر کیمرون کا کہنا ہے کہ شمالی سمندر ہمیشہ سے برطانوی ترقی کا ذریعہ رہے ہیں لیکن اب یہاں سے تیل اور گیس کا حصول پہلے سے مشکل ہو گیا ہے لہٰذا یہ ضروری ہے کہ یہ صنعت متحدہ برطانیہ کے زیرِ انتظام رہے۔

سکاٹش نیشنل پارٹی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں میں ایک ایسی چیز کی امید جگا رہے ہیں جو ختم ہونے والی ہے۔

کرنسی کا قضیہ

Image caption اس مطالبے کے پیچھے کرنسی بھی ایک اہم مسئلہ ہے

آزادی کے بعد بھی سکاٹ لینڈ پاؤنڈ ہی کو بطور کرنسی استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اور آزادی کے حامیوں کے خیال میں یہ سب کے بہترین مفاد میں ہے۔

لیکن برطانیہ کی تین مرکزی جماعتیں کنزرویٹو، لیبر اور لبرل ڈیمو کریٹس اس کی حمایت نہیں کریں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ آئندہ انتحابات میں جو بھی جماعت بر سرِ اقتدار آئے گی وہ بھی اس اقدام کی اجازت نہیں دے گی۔

یہ فیصلہ برطانیہ کی وزراتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اس جائزے کے بعد کیا گیا ہے جس میں ان تمام وجوہات کا احاطہ کیا ہے جس سے کرنسی کے اتحاد کے باعث مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

کیا سکاٹ واقعی آزادی چاہتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’ YouGov ‘ سروے کے مطابق 51 فیصد لوگ آزادی کی حمایت کرنے والے ہیں جبکہ 49 فیصد لوگوں کا ارادہ نہ کہنے کا ہے

گو کہ حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے یہ بات کافی حد تک واضح ہو چکی ہے کہ نسبتاً زیادہ لوگ آزادی کے حق میں ہیں لیکن پھر بھی اس وقت قطعی طور پر کچھ کہنا ذرا مشکل ہے۔

رائے عامہ کے عمومی رجحان سے اشارہ ملا ہے کہ لوگ آزادی نہیں چاہتے لیکن اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اب حالات ان کے ساتھ ہیں۔

سنڈے ٹائمز کے اتوار کے YouGov سروے کے مطابق 51 فیصد لوگ آزادی کی حمایت کرتے ہیں جبکہ 49 فیصد لوگ اس کے مخالف ہیں۔

ووٹ کون کون دے سکتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ووٹ دینے کے اہل 16 سال سے زیادہ عمر کے سکاٹش باشندے ہیں جو سکاٹ لینڈ ہی میں مقیم ہوں

سکاٹ لینڈ میں مقیم 16 یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا براہ راست حق حاصل ہو گا۔ اس کے لیے ان کا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔

اس کے لیے کچھ ضروریات بھی ہوں گی۔ ووٹروں کا برطانوی شہری ہونا یا یورپی یونین کا ممبر، یا دولتِ مشترکہ کا شہری ضروری ہے جنھیں برطانیہ میں داخلے اور رہائش کی اجازت حاصل ہو۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ برطانیہ کے دوسرے علاقوں میں رہنے والے آٹھ لاکھ سکاٹش شہری ووٹ نہیں دے سکتے تاہم برطانیہ کے دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے وہ چار لاکھ شہری جو سکاٹ لینڈ میں مقیم ہیں، ووٹ دے سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ مسلح افواج کے لوگ اور ان کے خاندان والے بھی ووٹ دے سکتے ہیں جن کا ووٹ رجسٹرڈ ہے لیکن وہ ملک سے باہر مقیم ہیں۔

19 ستمبر کو کیا ہوگا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جس کی بھی جیت ہو، جشن کا امکان قوی ہے

ریفرینڈم کے اگلے روز اگر جواب ہاں میں ہوا تو سکاٹش حکومت جشن منائے گی اور اس کے بعد وہ باقی ماندہ برطانیہ سے بات چیت کا سلسلہ شروع کرے گی۔

مسٹر سیمنڈ مارچ سنہ 2016 میں یوم آزادی کا اعلان کرنا چاہتے ہیں جب آزاد سکاٹش پارلیمان کے لیے پہلی بار انتخابات کرائے جائیں گے۔ لیکن اس سے قبل باقی ماندہ برطانیہ کے ساتھ قومی قرض میں سکاٹ لینڈ کے حصے پر فیصلہ کیا جائے گا۔

لیکن اگر ریفرینڈم میں لوگوں نے زیادہ تعداد میں نہیں کے حق میں ووٹ دیا تو برطانوی حکومت کی جانب سے بڑے جشن کا امکان ہے۔ اس کے بعد وہ سکاٹش پارلیمان کو مزید اختیار دینے کے مسئلے پر توجہ مرکوز کرے گی۔

لبرل ڈیموکریٹس اس مسئلے پر ایک عرصے سے غور و خوض کر رہے ہیں اور سابق رہنما سر مینزیز کیمبیل کی قیادت والے ایک کمیشن کا کہنا ہے یونین کی حامی جماعتوں میں اس بات پر زیادہ رضامندی ہے کہ ایڈنبرا پارلیمنٹ کو وصول کرنے کی زیادہ ذمے داری جیسے اہم مالی اختیارات دیے جانے چاہیے۔

اسی بارے میں