دنیا تباہی کے دہانے پر

سنہ 2010 میں برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر نکولس بوئل نے کہا تھا کہ سنہ 2014 میں ایک ’عظیم واقعہ‘ پیش آئے گا جو اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ اکسیویں صدی دنیا میں امن اور خوشحالی لائے گی یا جنگ اور غربت۔

ملائشیا کے دو مسافر طیاروں کی تباہی، نائجیریا میں 200 بچیوں کے اغوا، غزہ اور اسرائیل میں جنگ، مشرق وسطیٰ میں شدت پسند جنگجو گروہ دولتِ اسلامیہ کے ظہور اور یورپ میں یوکرین کی صورتحال پر بڑھتا ہوئے تناؤ کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ پروفیسر نکولس بوئل کا خیال شاید درست ہی ہو۔

بی بی سی کی عالمی سروس کے نامہ نگاروں نے درج ذیل صفحات میں ان بڑے مسائل کا جائزہ لیا ہے جو آج دنیا کودرپیش ہیں۔

یوکرین

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملائشین ائر لائینز کی پرواز ایم ایچ 17 جولائی میں دونیئسک کے علاقے میں ہی شاید حادثتاً باغیوں کا نشانہ بن گئی تھی۔

مغربی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یوکرین میں جاری تنازعہ سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد یورپ کو درپیش آنے والا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

موجودہ تناؤ کا اچانک آغاز اس وقت ہوا جب مارچ میں روس نے کرائیمیا پر قبضہ کر لیا۔ دو ماہ بعد ہی روس نواز بندوق برداروں نے یوکرین کے مشرقی علاقوں دونیئسک اور لوہانسک کی یوکرین سے آزادی کا اعلان کر دیا۔

اپریل کے وسط تک یوکرینی فوجیوں اور علیحدگی پسندوں کے درمیان لڑائی میں 2600 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ان میں وہ 298 مسافر اور عملے کے ارکان شامل نہیں جو ملائشین ایئر لائینز کی پرواز ایم ایچ 17 پر سوار تھے اور جولائی میں دونیئسک کے علاقے میں ہی شاید حادثتاً باغیوں کا نشانہ بن گئے تھے۔

یوکرین کے تنازعے نے روس اور نیٹو کے باہمی تعلقات کو ایک مرتبہ پھر بری طرح متاثر کر دیا ہے اور اب یہ عالم ہے کہ نیٹو کے دیگر رکن ممالک روس پر الزام لگا رہے ہیں کہ اس نے باغیوں کی مدد کے لیے اپنے ایک ہزار فوجی مشرقی یوکرین میں گُھسیڑنے کے علاوہ سینکڑوں بکتر بندگاڑیاں بھی وہاں بھجوا رکھی ہیں۔

اگرچہ اس وقت روس اور یوکرین کے درمیان بظاہر جنگ بندی ہو چکی ہے لیکن اٹلی کی وزیرخارجہ ایما برونو کہتی ہیں کہ ’یہ جنگ بندی محض ایک نئی کہانی کا دیباچہ‘ ہے۔

وہ پوچھتی ہیں کہ ’مجھے سمجھ نہیں آتی کہ نیٹو اور روس کے تعلقات کا کیا بنے گا۔ نیٹو اور روس کے مابین بہت بڑے اختلافات بھی پائے جاتے ہیں اور دونوں فریق توانائی اور بین الاقوامی امور میں ایک دوسرے پر انحصار کرنے پر بھی مجبور ہیں۔

’اس وقت اگرچہ یوکرین کے تنازعے میں قدرے ٹھہراؤ آ چکا ہے، لیکن مغرب اور روس کے درمیان بگڑے ہوئے تعلقات اتنی جلدی ٹھیک ہونے والے نہیں۔‘

شام

شام میں جاری تنازع اپنے 42ویں مہینے میں داخل ہو چلا ہے۔ اقوام متحدہ کے بقول ’ہمارے وقت کے اس سب سے بڑے انسانی المیے‘ میں اب تک تقریباً 50 فیصد شامی شہری حکومتی فوجوں اور باغی جنگجوؤں کے درمیان خونریز جنگ کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام کا مسئلہ اس قدر پیچیدہ ہو چکا ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہ اس کا انجام کیا ہوگا

آج سے ایک برس پہلے دمشق کے نواح میں کیمیائی ہتھیاروں کے ہاتھوں سینکڑوں عام شہریوں کی ہلاکت کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی بشارالاسد حکومت کے فوجی ٹھکانوں پر بمباری کرنے ہی والے تھے،لیکن برطانوی پارلیمان کی جانب سے شام میں فوجی مداخلت کے خلاف ووٹ کی وجہ سے امریکی صدر براک اوباما کو وہ حمایت نہ ملی جو شام پر حملے کے لیے ضروری تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی سیاستدانوں کے ذہنوں میں بھی شکوک بڑھ گئے اور بشارالاسد کے خلاف کارروائی کا ارادہ فوراً ترک کر دیا گیا۔

مبصرین کہتے ہیں کہ شام کا مسئلہ اس قدر پیچیدہ ہو چکا ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ مشہور محقق شاشنک جوشی کا خیال ہے کہ بشارالاسد کے حامی اور باغیوں کے حامی دونوں ہی تقسیم ہو چکے ہیں، اس لیے دونوں فریقوں کے درمیان کسی قسم کے امن معاہدہ کے امکانات مزید معدوم ہو چکے ہیں۔

مخلف گروہوں کے تابڑ توڑ حملوں کے باوجود ’مجھے نہیں لگتا کہ شام پر بشارالاسد کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے، بلکہ اگلے ایک سال تک شامی حکومت کی گرفت قائم رہی گی۔‘

دولت اسلامیہ کا عروج

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ گذشتہ مہینوں میں دولتِ اسلامیہ کے عروج نے شام میں لڑائی کے مسئلے کو دنیا کی نظروں سے اوجھل کر دیا ہے۔ اس شدت پسند تنظیم کی طاقت میں اس اچانک اضافے اور اس کی پرتشدد کارروائیوں نے امریکی فوج کو دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں پر اُکسا دیا ہے۔

دوسری جانب یورپی ممالک اور امریکہ کے شہریوں کی اتنی بڑی تعداد میں دولتِ اسلامیہ میں شمولیت نے مغربی دنیا کو حیران اور پریشان کر دیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دولتِ اسلامیہ اور اس کی اتحادی تنظیمیں شام اور عراق کے تقریباً 40 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے پر قبضہ کر چکی ہیں جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ یہ رقبہ اس سے کہیں زیادہ، یعنی 90 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ عراق کے چار بڑے شہر موصل، تکریت، فلوجہ اور طل افعار اور شام میں رقہ کے بڑے علاقے کے علاوہ تیل کے کئی کنویں، ڈیم، مرکزی سڑکیں اور سرحدی چوکیاں دولت اسلامیہ کے قابو میں ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت 80 لاکھ لوگ ان علاقوں میں پائے جاتے ہیں جو کہ کلی یا جزوی طور پر دولت اسلامیہ کے کنٹرول میں ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں اس تنظیم نے نہایت سخت گیر شریعت کا اطلاق کیا ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ولتِ اسلامیہ اوراتحادی تنظیمیں شام اور عراق کے تقریباً 40 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے پر قبضہ کر چکی ہیں

دولتِ اسلامیہ کے ڈرامائی عروج کے باوجود کچھ ماہرین کو یقین ہے کہ اس گروہ کا زور ٹوٹ رہا ہے اور اسے پسپائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

برطانوی افواج سے منسلک محقق افضل اشرف کہتے ہیں کہ ’گزشتہ ہفتوں میں دولتِ اسلامیہ کو شدید نقصانات اٹھانا پڑے ہیں۔ انھیں موصل ڈیم سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اس حزیمت کے بعد صحافی جیمز فولی کا سر قلم کر دیا۔ اس اقدام کے ذریعے انھوں نے امریکہ کو حملہ کرنے سے روکنے کی آخری کوشش کر کے دیکھ لی ہے۔

’ اگر دیکھا جائے تو دولتِ اسلامیہ کے عروج کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ گزشتہ عرصے میں القاعدہ ناکام ہو چکی تھی۔‘

شدت پسند اسلام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دولت اسلامیہ وہ واحد تنظیم نہیں ہے جس کی خواہش ہے کہ دنیا میں اسلامی خلافت قائم کی جائے

دولت اسلامیہ وہ واحد تنظیم نہیں ہے جس کی خواہش ہے کہ دنیا میں اسلامی خلافت قائم کی جائے۔ نائجیریا کے شدت پسند گروہ بوکو حرام کا کہنا بھی یہی ہے کہ ملک کے جس شمال مشرقی حصے پر اس کا قبضہ ہے اس نے بھی وہاں اپنی اسلامی خلافت کر لی ہے۔

سکول کی بچیوں کے اغوا کے بعد اب بوکو حرام نے نائجیریا کی فوج کے خلاف اپنی کارروائیوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے اور اس دوران یمن، شمالی افریقہ اور مشرقی افریقہ میں القاعدہ نے بھی مقامی حکومتوں کو زچ کر رکھا ہے۔ ہم ان گروہوں کی کارروائیوں کے بارے میں زیادہ نہیں سنتے کیونکہ عالمی شہ سرخیاں ان دنوں زیادہ تر دولتِ اسلامیہ کے متعلق ہی ہوتی ہیں۔

اسی طرح صومالیہ میں اسلامی شدت پسند گروہ الشباب بھی ملک کے دیہی علاقوں میں مسلسل قابض ہے اور دارالحکومت موگادیشو میں بھی اس کے بم دھماکے اور قتل وغارت جاری ہیں۔

ان خبروں کے باوجود محقق افضل اشرف کہتے ہیں کہ ان شدت پسند گروہوں کی نظریاتی بنیادیں کمزور پڑ چکی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں بھی صورت حال بہتر ہونے کے امکانات کم ہی ہیں

’یہ تمام گروہ آج کل کشمکش کا شکار ہیں کیونکہ انہیں سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ وہ اپنی عالمی رہنمائی کے لیے کس رہنما کی جانب دیکھیں۔ ان گروہوں کی اکثریت القاعدہ کو اپنا رہنما تسلیم کرتی رہی ہے لیکن اب یہ تمام گروہ دولتِ اسلامیہ کی چکا چوند کامیابیوں کے گرویدہ بھی ہو گئے ہیں۔

’میرا خیال ہے کہ یہ نظریاتی کشمکش ان گروہوں کی حملے کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرے گی اور یوں ان گرروہوں کے حوصلے بھی پست ہوں گے۔‘

ان مسائل کے علاوہ دنیا کو افغانستان اور غزہ کی صورتحال کی وجہ سے بھی دو بڑے امتحانوں یا چیلنجز کا سامنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں صدارتی انتخابات پر تنازعات اور سیاسی جمود اپنی جگہ، تاہم ملک کے پاس طاقتور فوج موجود ہے اور سنہ 2017 تک اس فوج کو مالی امداد بھی حاصل رہے گی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا امریکہ افغانستان کی مالی مدد اسی طرح سے جاری رکھے گا یا نہیں کیونکہ بہت سی بیرونی امداد بدعنوانی کی نظر ہو جاتی ہے۔

مسٹر جوشی کے بقول ’ ملک سے مزاحمتی عناصر کی کارروائیاں ختم نہیں ہو رہی ہیں، اور ایسے میں اگر حکومت کے پاس پیسے ختم ہو جاتے ہیں تو باغیوں کا کام آسان ہو جائے گا۔‘

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں بھی صورت حال بہتر ہونے کے امکانات کم ہی ہیں۔ اگر امریکہ دباؤ نہیں ڈالتا تو اسرائیل کی دائیں بازو کی حکومت مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر نہیں روکے گی۔

لندن سکول آف اکنامکس کے پروفیسر فواز گرجیس کہتے نہیں کہ ’اگر براک اوباما فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے دو الگ الگ ریاستوں کے منصوبے پر عمل نہیں کر سکتے تو مجھے نہیں لگتا کہ مستقبل قریب میں کوئی دوسرا امریکہ صدر ایسا کر سکے گا۔

’مجھے نہیں لگتا کہ مستقل قریب میں یہ مسئلہ حل ہونے والا ہے۔‘

اسی بارے میں