’اسرائیل پناہ گزینوں کو بے دخل کر رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پناہ گزینوں کی پناہ کی درخواستوں کو 100 فی صد مسترد کر دیا گیا: ہیومن رائٹس واچ

حقوق انسانی کے بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اسرائیل اریٹریئن اور سوڈانی شہریوں کو غیرقانونی طور پر ملک چھوڑنے پر مجبور کر رہا ہے۔

تنظیم کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق ان افراد کو غیرقانونی طریقے سے حراست میں رکھا گیا ہے اور ان کو پناہ حاصل کرنے کے شفاف اور موثر طریقۂ کار تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

رواں سال کے شروع میں پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد نے اسرائیلی حکام کے رویے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان کی پناہ گزینوں کے بارے میں پالیسی بین الاقوامی قوانین سے مطابقت رکھتی ہے۔

اسرائیل کے مطابق افریقی شہری پناہ حاصل کرنے نہیں آئے بلکہ روزگار کے حصول کے لیے آنے والے پناہ گزین ہیں کیونکہ ان کے ملکوں کے نزدیک اسرائیل ہی ایک ترقی یافتہ ملک ہے جہاں یہ ملازمتیں حاصل کر سکتے ہیں۔

اریٹریئن اور سوڈانی شہری غیر قانونی طور پر مصر کے صحرائے سینا سے اسرائیل میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی سب سے بڑی تعداد 2006 میں داخل ہوئی تھی جبکہ دسمبر 2012 تک 37 ہزار اریٹریئن اور 14 ہزار سوڈانی شہری اسرائیل میں داخل ہو چکے تھے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق گذشتہ آٹھ سال کے دوران اسرائیلی حکومت ان افراد کو ملک چھوڑنے کے حوالے سے مختلف طریقے اپنائے۔

اس میں غیر معینہ مدت کے لیے حراست میں لینا، پناہ حاصل کرنے کے اسرائیلی نظام تک رسائی میں رکاوٹیں جس میں اریٹریئن اور سوڈانی شہریوں کی جانب سے دائر کی جانے والی 99.9 فی صد درخواستوں کو مسترد کیا جانا شامل ہے۔ اس کے علاوہ کام کرنے کی اجازت سے متعلق مبہم پالیسی اور طبی سہولیات تک رسائی میں رکاوٹیں شامل ہیں۔

تنظیم کے مطابق ستمبر 2013 میں اسرائیل کی سپریم کورٹ نے دراندازی روکنے سے متعلق قانون میں ایک ترمیم کو غیرقانونی قرار دیا تھا۔ اس ترمیم کے تحت ملک میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے والے افراد کو غیر معینہ مدت تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اسرائیلی پارلیمان نے ایک اور ترمیم کی منظوری دی تھی جس کے تحت دور افتادہ صحرائے نقب میں ہولوت کیمپ قائم کیا گیا جس میں دراندازی کرنے والے افراد کو رکھا جاتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ سینکڑوں اریٹریئن اور سوڈانی شہریوں کو اس کے بعد سے اس کیمپ میں رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کیمپ کے حالات بے قاعدہ حراست سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کو حراست میں نہیں رکھا گیا اور یہ چند گھنٹوں کے لیے کیمپ سے باہر جا سکتے ہیں لیکن ان کو دن میں تین بار کیمپ میں اطلاع کرنا ہوتی ہے اور رات کے اوقات میں کیمپ میں ہی قیام کرنا ہوتا ہے۔ حکام کے مطابق ان افراد کے پاس رہائی کے لیے ایک ہی راستہ ہے اور یہ کہ خود کو مہاجرین کے طور پر شناخت کرا سکیں یا ملک چھوڑ دیں۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ فروری 2013 میں اسرائیلی حکام نے اریٹریئن اور سوڈانی شہریوں کی قابل ذکر تعداد کو پناہ کی درخواست دینے کی اجازت دی تھی، تاہم مارچ 2014 تک حکام نے محض 450 درخواستوں کا جائزہ لیا اور رد کی جانے والی درخواستوں کی شرح 100 فی صد رہی۔

ہیومن رائٹس واچ کے مہاجرین سے متعلق تحقیق کے سینیئر محقق اور اس رپورٹ کے مصنف جیری سمسن کے مطابق ’لوگوں کی تحفظ حاصل کرنے کی امیدوں کو تباہ کرنا اور بعد میں یہ دعویٰ کرنا کہ یہ افراد رضاکارانہ طور پر اسرائیل چھوڑ رہے ہیں، واضح طور پر نازیبا رویہ ہے۔‘

’اسرائیل میں اریٹریئن اور سوڈانی شہریوں کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ صحرا میں واقع حراستی مراکز میں خوف کی زندگی گزاریں یا واپس اپنے ملک جانے پر حراست اور برے سلوک کا سامنا کرنے کا خطرہ مول لیں۔‘

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اسرائیل بین الاقوامی ری فاؤلمنٹ کے قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس کے تحت ریاستوں کو پناہ گزینوں اور پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کو ان کے ملکوں یا ایسی جگہوں پر واپس بھیجنے کی اجازت نہیں ہوتی جہاں ان کی زندگیوں اور آزادی کو خطرات لاحق ہو۔

اسی بارے میں