نائن الیون کی برسی پر خصوصی تقاریب

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وائٹ ہاؤس میں نائن الیون کی یاد میں صدر ابامہ کی سربراہی میں تقریب کا انعقاد کیا گیا

امریکہ میں جمعرات کو نائن الیون کو ہونے والے حملوں کے 13 سال پورے ہونے کی یاد منائی گئی۔ نائن الیون کی تیرہویں برسی کی مناسبت سے واشنگٹن اور نیویارک میں خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ ان تقاریب میں نائن الیون کے دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہونے والے تقریباً تین ہزار افراد کے نام بلند آواز میں پکار کر انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ہلاک شدگان کے رشتہ دار اور عام امریکی شہریوں کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔

نیو یارک میں یہ تقریب نائن الیون کی یاد میں بننے والے نئے قومی عجائب گھر جبکہ واشنگٹن میں یہ تقریب وائٹ ہاؤس کے لان میں منعقد کی گئی جس کی سربراہی امریکی صدر براک اوباما نے کی۔ پینٹاگون اور پنسلوینیا میں بھی اس جگہ خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا گیا جہاں نو ستمبر کو ہائی جیک کیے گئِے چار میں سے دو طیارے گر کر تباہ ہو گئے تھے۔ یاد رہے کہ ہائی جیک ہونے والے پہلے دو طیارے ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے ٹکرا کر تباہ ہو گۓ تھے۔

Image caption ہائی جیک ہونے والے پہلا جہاز صبح آٹھ بج کر چھیالیس منٹ پر ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے ٹکرایا تھا۔

ان تقاریب کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بج کر چھیالیس منٹ پر کیا گیا، ٹھیک اسی وقت، جب ہائی جیک ہونے والے جہازوں میں سے پہلا جہاز ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے ٹکرایا تھا۔

نائن الیون کی تیرہویں برسی کی تقاریب ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہیں جب امریکی صدر نے عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے لیے ایک وسیع البنیاد اتحاد کی سربراہی کا اعلان کیا ہے۔

صدر اوباما نے سنّی شدت پسند گروہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف حکمتِ عملی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ عراق کے ساتھ ساتھ شام میں بھی دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی سے نہیں ہچکچائے گا۔

نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر القاعدہ کے دہشت گرد حملوں کے 13 برس مکمل ہونے پر بدھ کی شب امریکی قوم سے خطاب میں براک اوباما کا کہنا تھا کہ امریکہ کو دھمکی دینے والے کسی بھی گروپ کو کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ امریکی صدر کے بقول دولت اسلامیہ کو پسپا کرنے کے لیے امریکہ ایک وسیع البنیاد اتحاد کی سربراہی کرے گا۔

نائن الیون کی یاد میں وائٹ ہاؤس کی سابق پریس سیکریٹری اری فلیشر اپنے گیارہ ستمبر کے نوٹس اور یاداشتیں بھی ٹویٹ کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں