برطانوی ایم پی کو سٹیشنری کے غلط استعمال پر جرمانہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یتھیو ہینکاک نے 3,100 لفافوں اور 6,200 کاغذوں کا استعمال کیا تھا جس کی مالیت 1,674 پاؤنڈ بنتی ہے

انگلینڈ میں ایک ایم پی کو ہاؤس آف کامنز کی سہولیات غلط استعمال کرنے کا پتہ چلنے پر 1,674 پاؤنڈ ادا کرنے کا کہا گیا ہے۔

کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے انگلینڈ کے وزیر برائے کاروبار میتھیو ہینکاک نے حکومت کے کارناموں پر مشتمل 3,000 خطوط اپنے حلقۂ انتخاب میں بھیجے تھے۔

پارلیمانی معیارات کمشنر نے میتھیو ہینکاک کےحلقۂ انتخاب سے آنے والی ایک شکایت کو برقرار رکھا ہوئے کہا کہ یہ ایک ادھم مچانے والی مہم تھی۔

دوسری جانب ایم پی میتھیو ہینکاک نے اپنے طرزِ عمل پر معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے سیاسی فنڈ سے یہ رقم واپس کریں گے۔

یہ خطوط ہاؤس آف کامنز کی جانب سے ادا کیے گئے لفافوں میں بھیجےگئے تھے۔

خیال رہے کہ میتھیو ہینکاک نے 3,100 لفافوں اور 6,200 کاغذوں کا استعمال کیا تھا جس کی مالیت 1,674 پاؤنڈ بنتی ہے۔

ایک بیان میں میتھیو ہینکاک نے کہا ’میری نوکری میں یہ بہت اہم ہے کہ میں اپنے حلقۂ انتخاب کے رہائشیوں سے رابطہ رکھوں تاکہ میں پارلیمان میں ان کی مناسب طریقے سے نمائندگی کر سکوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے میری خواہش تھی کہ میں اپنے حلقۂ انتخاب میں رہنے والے افراد سے رابطہ رکھوں اور اسی مقصد کے لیے میں نے یہ خطوط بھیجے جس کا مقصد غیر ارادی طور پر سیاسی کی بجائے پارلیمانی تھا۔

واضح رہے کہ انگلینڈ کے لیبر کونسلر جان انسول نے اپنے گھر میں آنے والے اس خط کے بعد میتھیو ہینکاک کے خلاف شکایت کی تھی۔

جان انسول نے کہا کہ جب مجھے وہ خط ملا تو میں نے دیکھا کہ وہ ہاؤس آف کامنز کی جانب سے ادا کیے گئے لفافے میں تھا۔

انھوں نے مزید کہا ’میں وہ خط دیکھ کر خوش نہیں ہوا کیونکہ میں ٹیکس ادا کرنے والے کی حیثیت سے اس کی ادائیگی کرتا ہوں۔‘

جان انسول کے مطابق ’یہ چیزیں صحیح نہیں ہیں اور صرف ادھم مچانے والی ایک انتخابی مہم کی طرح ہیں۔‘

اسی بارے میں