پسٹوریئس پر قتلِ خطا کا الزام ثابت ہوگیا

Image caption قتلِ خطا کے لیے پسٹوریئس کو 15 برس قید کی سزا دی جا سکتی ہے

جنوبی افریقہ میں جج نے اپنی ساتھی کو ہلاک کرنے والے ایتھلیٹ آسکر پسٹوریئس کو قتلِ خطا کا مجرم قرار دے دیا ہے۔

پسٹوريئس پر الزام تھا کہ انھوں نےگذشتہ سال ویلنٹائن ڈے کے موقع پر 29 سالہ ریوا سٹین کیمپ کو گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔

جج تھوكوسیل ماسيپا نے جمعرات کو انھیں اپنی ساتھی کے ارادتاً قتل کے تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔

تاہم جمعے کو فیصلے میں انھوں نے کہا کہ پسٹوریئس نے جب بیت الخلا کے دروازے پر فائرنگ تو یہ ان کی غلطی تھی لیکن اس وقت وہ یہی تصور کر رہے تھے کہ ان کے مکان میں کوئی گھس آیا ہے۔

جج ماسیپا کا کہنا تھا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ پسٹوریئس نے جان بوجھ کر ریوا کیمپ کو باتھ روم میں قتل کیا۔

عدالت نے پسٹوریئس کو ریستوران میں ہتھیار کے غلطی سے استعمال کا مجرم بھی قرار دیا ہے۔

جج نے پسٹوریئس کی سزا کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن قتلِ خطا کے لیے انھیں 15 برس قید ہو سکتی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق پسٹوریئس کو سات سے دس سال کی سزائے قید دیے جانے کا قوی امکان ہے۔

Image caption آسکر پسٹوریئس کے خلاف ریوا سٹین کیمپ کی ہلاکت کا مقدمہ رواں سال تین مارچ کو شروع ہوا تھا

آسکر پسٹوریئس اپنے اوپر عائد الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس خیال سے گولی چلائی کہ ان کےگھر میں کوئی گھس آیا ہے۔

جج تھوكوسیل ماسيپا نے جمعرات کو اس مقدمے کا فیصلہ سنانا شروع کیا تھا اور ابتدا میں کہا کہ انسانوں سے غلطی ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ انھوں نے گولیاں چلنے کی آوازیں یا انسانی چیخیں نہ سنی ہوں۔

جب عدالت میں جج نے فیصلہ سنانا شروع کیا تو کٹہرے میں موجود پسٹوریئس آبدیدہ ہوگئے۔

جسٹس ماسیپا کا کہنا ہے کہ وکیلِ صفائی کے یہ دعوے کہ پولیس نے ثبوتوں سے چھیڑچھاڑ کی اور جائے وقوعہ سے اشیا ہٹائیں’غیر اہم ثابت ہوئے۔‘

انھوں نے بظاہر ریوا سٹین کیمپ کی چیخیں اور گولیاں چلنے کی آوازیں سننے والے کئی گواہان کی صداقت پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ’ان میں سے بیشتر حقائق کا صحیح ادارک نہیں کر سکے۔‘

جج کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالت آسکر پسٹوریئس اور ان کی ساتھی کے تعلقات کی نوعیت کے بارے میں استنباد کرنے یا منطقی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش نہیں کرے گی۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ ان کے تعلقات ’بہت خراب تھے۔‘

پسٹوریئس پر عوامی مقام پر گولی چلانے کے دو معاملات اور غیر قانونی طور پر ہتھیار رکھنے کے الزامات پہلے ہی ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔

آسکر پسٹوریئس کے خلاف مقدمہ رواں سال تین مارچ کو شروع ہوا تھا اور اس دوران 37 افراد نے گواہی دی۔ اس مقدمے کی کارروائی ٹی وی پر براہِ راست نشر کی گئی تھی۔

اسی بارے میں