’اوباما ریٹنگ کے چکر میں نہ پڑیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈک چینی کی بات مانیں تو امریکہ پر اتنے خطرے منڈلا رہے ہیں کہ اس کو دنیا کے ہر کونے میں فوج بھیج کر جنگ شروع کر دینی چاہیے

رام گوپال ورما اگر آپ اپنی ڈرنے ڈرانے والی پکچرز کو ہٹ کروانا چاہتے ہوں تو میری طرف سے ایک مفت مشورہ ہے۔

امریکہ کا ٹکٹ کٹوا لیں اور ایک انسان کے قدموں میں لیٹ کر فریاد لگائیں:’گرو دیو (استاد محترم) مجھے اپنا شاگرد بنا لو۔‘

ان صاحب کا نام ڈک چینی ہے۔ یاد ہے نہ آپ کو یہ نام؟

جی ہاں جارج بش کے وہی من پسند نائب صدر جن کے چہرے پر ہمیشہ مہا بھارت کے شكونی ماما والی ٹیڑھی مسکراہٹ ہوتی تھی، جنھوں نے آپ سب کو یقین دلایا تھا کہ صدام حسین نے ایسے ہتھیار چھپا رکھے ہیں جو دنیا کا بیڑا غرق کر دیں گے۔

اور ان دنوں جب عراق پھر سے بحث میں ہے تو ڈک چینی واشنگٹن میں ویسے ہی نظر آنے لگے ہیں جیسے موسم باراں میں مینڈھک۔

فرق بس اتنا ہے کہ مینڈھک ٹرر ٹرر کا سر الاپتا ہے، چینی کیمرہ اور مائیک دیکھتے ہی وار وار یعنی جنگ و حرب کی رٹ لگانے لگتے ہیں۔

ایک آدمی، ایک محلہ، ایک ریاست کو نہیں، پورے ملک کو دھمکی دینا ایک بڑا فن ہے اور چینی کو تو جیسے اس فن میں مہارت حاصل ہے۔

چینی کو کسی بھی فورم پر سنیں تو ایسا لگے گا جیسے 12 ستمبر کی صبح ہو یعنی 13 سال پہلے 11 ستمبر کو امریکہ پر ہوئے حملے کے بعد کی صبح جب پورا ملک واقعی سہما ہوا تھا۔

ان کی بات مانیں تو امریکہ پر اتنے خطرے منڈلا رہے ہیں کہ اس کو دنیا کے ہر کونے میں فوج بھیج کر جنگ شروع کر دینی چاہیے۔

ریپبلکن پارٹی کے پرانے سابق فوجیوں اور نونہالوں کی بھی حالت یہ ہے کہ جب دیکھو تب اوباما کی شکایت لگانے کے لیے چینی کو واشنگٹن بلا لیتے ہیں۔

چینی بھی ایک تجربے کار لیڈر کی طرح شروع ہو جاتے ہیں کہ اگر اوباما نے عراق سے فوج بلانے میں جلدبازی نہیں کی ہوتی، اگر گذشتہ برس ہی شام پر دھاوا بول دیتے تو آج دنیا کی یہ حالت نہیں ہوتی۔

اور پوری پارٹی دم سادھ کر اس گفتگو کو ایسے سنتی ہے جیسے بابا رام دیو اپنے عقیدت مند بھکتوں سے یوگا کے دوران سانس کھینچو کہنے کے بعد سانس چھوڑو کہنا بھول گئے ہوں۔

اور جیسے جنگل میں ایک سیار بولا ’ہوا‘ تو سارے کے سارے سیار اسی کے ساتھ ’ہوا‘ کا راگ الاپنے لگتے ہیں، کچھ اسی طرح پوری پارٹی امریکہ کو ڈرانے کی کوشش میں لگ جاتی ہے۔

اس ہفتے جب صدر اوباما کی تقریر سنی تو ایک بار تو مجھے بھی ایسا لگا جیسے وہ بھی چینی کے ہنر کے شکار بن گئے ہیں۔ انھوں نے جن الفاظ کا استعمال کیا انھیں سن کر بش کے دنوں کی یاد تازہ ہو گئی۔

بڑے زمانے کے بعد رپبلكنز کے منہ سے بھی ان کے لیے تعریفی کلمات نکلے۔

اوباماجي کی ریٹنگ (درجہ بندی) ان دنوں لٹي پٹی ہوئی ہے۔ ہو سکتا ہے اس تقریر کے بعد شاید تھوڑی بہتر ہوئی ہو۔

اپنی ریٹنگ میں چل رہی مندی سے اوباما کتنے پریشان ہیں اس کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ حال ہی میں ایک شادی میں شرکت کے لیے وہ نیویارک گئے تھے۔ دو تین گھنٹے خالی تھے تو سوچا گولف کھیل لیں۔

خبر ہے کہ ان کے ملازمین نے تین گولف کلبوں سے رابطہ کیا لیکن کسی نے انھیں کھیلنے کی اجازت نہیں دی۔ سب نے کہا کہ اوباما کی سكيورٹي کی وجہ سے ان کے دیگر ارکان کو پریشانی ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اوباماجي کی ریٹنگ ان دنوں لٹي پٹی ہوئی ہے۔ ہو سکتا ہے اس تقریر کے بعد شاید تھوڑی بہتر ہوئی ہو۔

کیا دن آ گئے ہیں۔ ابتدائی دنوں میں جب اوباما کے ستارے بلندی پر تھے تو یہی كلب بچھے جا رہے تھے کہ اوباما کے قدموں کی دھول ہی ملے، کلب کے دیگر ممبران کی ایسی تیسی ہوتی ہے تو ہوتی رہے۔

لیکن اوباما جي سے میں تو پھر بھی یہی کہوں گا کہ ریٹنگ کے چکر میں نہ پڑیں۔ چینی کی باتوں پر چل کر بش کا کیا ہوا یہ دنیا دیکھ رہی ہے۔

واشنگٹن کے ایک سرکاری سکول میں چھٹی کلاس کے بچوں کو ہوم ورک دیا گیا کہ بش اور ہٹلر میں کیا مماثلت ہے، انھیں ایک وین ڈائگرام کے ذریعے دکھائیں۔ یہ خبر پڑھ کر بش پر کیا گزری ہوگی آپ سوچ سکتے ہیں۔

دنیا کو ساتھ لانے کی کوششوں کے لیے صدر اوباما کو نوبیل انعام مل چکا ہے۔ بس اور دو سال کی بات ہے، تھوڑے بہت ڈرون حملے، تھوڑی بہت تقاریر کے ساتھ نکال لیں، پھر زندگی بھر چاندی ہی چاندی۔

اگر گڑ بڑ کی تو چھٹی کلاس کے بچوں کے ہوم ورک میں شامل ہو جائیں گے!

اسی بارے میں