ایبولا مرض ’عالمی سکیورٹی کو خطرہ‘ ہے: براک اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ na
Image caption ’ایبولا وائرس سے نمٹنے کے لیے 3000 امریکی فوجی مغربی افریقہ جائیں گے اور امریکہ نئی طبی سہولیات قائم کرے گا‘

امریکی صدر براک اوباما نے اعلان کیا ہے کہ مغربی افریقہ میں پھیلا ہوا ایبولا مرض ’عالمی سکیورٹی کو خطرہ‘ ہے اور امریکہ اس وائرس کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

انھوں نے کہا ’پوری دنیا امریکہ کی جانب دیکھ رہی ہے۔ لیکن اس مرض کے خلاف عالمی کوششوں کی ضرورت ہے۔‘

امریکی صدر نے اعلان کیا کہ ایبولا وائرس سے نمٹنے کے لیے 3000 امریکی فوجی مغربی افریقہ جائیں گے اور امریکہ نئی طبی سہولیات قائم کرے گا۔

واضح رہے کہ مغربی افریقہ کے ممالک لائبیریا، گنی اور سیرالیون ایبولا سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں جسں سے 2400 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ لائبریا میں ایبولا وائرس نے تباہی مچا دی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے وجود کو ہی اس وبا سے خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

ایبولا نامی یہ بیماری انسانوں میں براہِ راست جسمانی تعلق، خون کے تبادلے، جسمانی رطوبت یا اعضا سے، اور بالواسطہ طور پر آلودہ فضا سے پھیلتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا تھا کہ دیگر مغربی افریقی ممالک کے برعکس لائبیریا میں ایبولا کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششیں ناکام رہی ہیں۔

طبی خیراتی ادارے میڈیسن سانز فرنٹیئرز کا کہنا ہے کہ مغربی افریقہ میں ایبولا کی وبا پر قابو پانے میں کم از کم چھ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔

جینیوا میں ادارے کی سربراہ جوان لیو نے کہا ہے کہ وہاں ’حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں اور ان سے نمٹنا آسان نہیں۔‘

اس سے قبل عالمی ادارۂ صحت نے کہا تھا کہ ایبولا کے پھیلاؤ کے بارے میں لگائے جانے والے اندازے درست نہیں تھے اور اس سے نمٹنے کے لیے ’غیرمعمولی اقدامات‘ درکار ہیں۔

ایبولا کا وائرس فروری میں گنی سے پھیلنا شروع ہوا تھا اور اب تک وہ لائبیریا، سیرالیون اور نائجیریا تک پھیل چکا ہے۔

صحت کے عالمی ادارے کے مطابق اس وائرس کی روک تھام کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات کی ضرورت ہے۔

ادارے کے مطابق یہ ایک چیلینج یہ ہے کہ جو علاقے ایبولا سے متاثر ہیں وہ ’انتہائی غربت، غیر فعال صحت کے نظام، ڈاکٹروں کی قلت اور شدید خوف‘ کا بھی شکار ہیں۔